نئی دہلی: دارالحکومت میں پانی کی قلت کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی نے دہلی کے چھتر پور میں جل بورڈ واٹر فلنگ پوائنٹ پر مٹکا پھوڑ کر دہلی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران احتجاج میں شریک مشتعل خواتین نے دہلی جل بورڈ کے دفتر پر پتھراؤ کردیا۔
اس واقعہ کے دوران جنوبی دہلی کے سابق بی جے پی ایم پی رمیش بیدھوری بھی موقع پر موجود تھے اور انہوں نے پانی کی قلت کو لے کر دہلی جل بورڈ کے عہدیداروں سے بات کرنے کی کوشش کی، حالانکہ دہلی جل بورڈ کے سینئر عہدیدار دفتر میں موجود نہیں تھے۔
عام آدمی پارٹی کی وزیر آتشی نے رمیش بدھوری پر جل بورڈ کے دفتر میں توڑ پھوڑ کا الزام عاد کرتے ہوئے پولیس سے شکایت بھی کی۔ آبی وزیر آتشی نے کہا کہ جنوبی دہلی سے بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری نے چھتر پور میں دہلی جل بورڈ کے دفتر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے، جو دہلی پولیس کو دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ دہلی جل بورڈ نے بھی پولیس کو شکایت کی ہے۔آتشی نے کہا کہ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ دہلی پولیس بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری کے خلاف ایف آئی آر درج کرتی ہے یا نہیں۔ وزیر آتشی نے کہا کہ ویڈیو میں رمیش بیدھوری صاف نظر آرہے ہیں۔
اس معاملے میں دہلی جل بورڈ نے مہرولی تھانے کے ایس ایچ او اور جنوبی دہلی کے ڈی سی پی کو شکایت کی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔ قابل ذخر ہے کہ دہلی پولیس بی جے پی کی مرکزی حکومت اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے تحت آتی ہے۔ اس سوال اب یہ پیدا ہورہا ہے کہ کیا اب دہلی پولیس رمیش بدھوری کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کرے گی یا نہیں۔
سابق ایم پی رمیش بدھوری کا کہنا ہےکہ پانی کی قلت کے مسائل کو کیجریوال حکومت نے ایک مذاق بنا رکھا ہے۔ وہ مسلسل دوسروں پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔ جب بھی سیلاب آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہریانہ نے دہلی میں زیادہ پانی چھوڑا ہے اور کبھی خشک سالی ہوتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہریانہ پانی نہیں چھوڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پھر حکومت میں کیوں بیٹھے ہو؟ کیا آپ نے پانی کے بحران سے پہلے کوئی روڈ میپ بنایا تھا؟ کیا آپ نے گرمیوں میں پیش آنے والے مسائل کے لیے کوئی تیاری نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت ناکام حکومت ہے۔ دہلی کے ڈھائی کروڑ عوام اس ناکام حکومت کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
آج جب لوگ دہلی جل بورڈ کے دفتر پہنچے تو سبھی اہلکار موقع سے بھاگ گئے۔ دہلی جل بورڈ کے دفتر پر پتھراؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام میں غصہ ہے اور غصے میں اس سے بھی زیادہ چیزیں ٹوٹ سکتی ہیں۔
میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے آگے آکر عوام کو روکا، یہ حکومت کی جائیداد ہے۔ یہ ہماری جائیداد ہے اور اس کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔