سرینگر:میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو حکام نے آج جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی۔گزشتہ برس میں ان کی نظر بندی سے رہائی کے بعد اور پھر 6 اکتوبر 2023 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جب میرواعظ کو تقریباً پانچ ماہ کی نظر بندی کے بعد جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی اور وعظ و تبلیغ کی اجازت دی گئی۔
انجمن اوقاف جامع مسجد نے اپنے بیان کہا کہ حکام نے انہیں آج دوپہر میرواعظ کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور جیسے ہی لوگوں کو ان کی رہائی کا علم ہوا تو ہر طرف جوش و خروش پھیل گیا اور وہ بڑی تعداد میں لوگ جامع مسجد میں جمع ہو گئے۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ پانچ ماہ ہم سب کیلئے بہت تکلیف دہ رہے ہیں کیونکہ اس مرکز کے منبر ومحراب جو دہائیوں سے یہاں قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں کو خاموش رکھا گیا۔اب جبکہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں ہماری مستقل رہائی کے حوالے سے سماعت زیر غور ہے، تو امید ہے کہ عدالت عالیہ ہماری نظر بندی کے حوالے سے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے ہمارے وعظ و تبلیغ پر عائد پابندی کو مستقل طور ہٹائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کی تمام سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ میری رہائی کو یقینی بنائیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی انتظامیہ نے ہماری پُر امن دینی اور منصبی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی حتیٰ کہ معراج العالم ﷺ ، شب برات اور دیگر مقدس تقریب کے ایام میں بھی وعظ وتبلیغ سے روکا گیا۔
میرواعظ نے کہا کہ جامع مسجد کے منبر ومحراب ہمیشہ سے امن اور رواداری کا پیغام دیتے رہے ہیں اور میرواعظین کشمیر نے ہمیشہ سے اس مرکز سے رواداری، امن اور بھائی چارے کیلئے آواز بلند کی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی مسائل ہوں چاہے وہ دینی ہوں ،سیاسی ہوں ،سماجی ہوں ان کا ایک پُر امن حل تلاش کیا جائے۔
میرواعظ نے کہا کہ مشکل حالات میں ہوا کے رخ پر کشتی چھوڑنے کے بجائے ہمیں صبر و استقامات کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ ہر سختی کے بعد آسائش ہے کیونکہ تاریخ سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ کوئی بھی وقت مستقل نہیں ہوتا اور وقت کا پہیہ ہمیشہ گردش میں رہتا ہے اور چیزیں بدلتی رہتی ہیں۔