مغربی بنگال کے گورنرجگدیپ دھنکر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں رپورٹ ملی ہے کہ ممتا حکومت نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تبلیغیوں کو ہری داس پور چیک پوسٹ کے راستے بھیجنے کی کوشش کی جب کہ ا ن کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری تھا۔ تاہم انہیں سرحد پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔
گورنر نے کہا کہ کولکاتا کے مدینۃ الحجاج کے قرنطینہ میں رہنے والے بنگلہ دیشی جماعتیوں کو بس کے ذریعہ بھیجا جارہا تھا۔یہ سب کیا ہے ۔ اس سے کس کو فائدہ ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ لوگ ہری داس پور سرحد پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے خلاف لوک آؤٹ نوٹس جاری تھے۔ان میں 14افراد کے خلاف نئی دہلی پولس کرائم نے لوک آؤٹ نوٹس جاری کررکھے تھے۔
تاہم ترنمول کانگریس نے گورنر کے تمام الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگال حکومت کا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔بدھان نگر کے پولس کمشنریٹ لکشمی نارائن مینا نے کہا کہ انٹلی جنس بیورو کی ہدایات کے مطابق ہی کام کئے گئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہری داس پور چیک پوسٹ پر حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے بنگلہ دیشی آئے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ترنمول کانگریس کی قیادت والی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے گورنر نے الزام عاید کیا تھا کہ ممتا حکومت مسلم خوشامد کی سیاست کررہی ہے۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس کے رہنما بھی گورنر کی تنقیدوں کا سخت جواب دیتے رہے ہیں اور ان پر الزام عاید کیا جاتا رہا ہے کہ وہ بی جے پی رہنما کے طور پر کام کررہے ہیں۔
گورنر کے تنقیدی بیانات پر وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے بھی گزشتہ مہینے سخت رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گورنر کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ ریاست کی ایک منتخب وزیرا علیٰ کے تئیں گورنرکا رویہ انتہائی افسوس ناک ہے اور انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ میں عوام کی منتخب نمائند ہ ہوں اور وہ ایک نامزد عہدہ پر فائز ہیں۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ انہیں مشورہ دینے کا حق ہے مگروہ اپنے ایجنڈے ہم پر نافذ نہیں کرسکتے ہیں۔ وہ آئنی سربراہ ہو سکتے ہیں لیکن کسی سیاسی جماعت کے ترجمان نہیں۔