رکن پارلیمان بابل سپریو بی جے پی سے وابستہ طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد یعنی اے بی وی پی کی جانب سے منعقد ایک پروگرام میں شرکت کے لیے یونیورسٹی پہنچے تھے۔
انہیں پروگرام میں حصہ لینے سے پہلے ہی تقریباً بائیں بازو کی حمایت یافتہ طلبا تنظیم کے ارکان نے حملہ کرکے یرغمال بنا لیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی کے گیٹ نمبر چار سے داخل ہو کر اے بی وی پی کے حامیوں نے یونیورسٹی کے کمرے میں توڑ پھوڑ مچائی اور دیواروں پر پینٹ کرکے آرٹس فیکلٹی اسٹوڈنٹز یونین کے خلاف اور اے بی وی پی کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی تھی۔
اس کے علاوہ یونیورسٹی کی کینٹین میں بھی توڑ پھوڑ مچائی گئی اور کئی دکانوں اور موٹر سائیکلز کو نذر آتش بھی کیا گیا۔
اے بی وی پی کے حامیوں نے گیٹ توڑنے کی بھی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کے طلباء کو بری طرح زدوکوب کیا گیا اور اُن کے ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی۔
اس دوران راستے میں لگے ہوئے ایس ایف آئی، ٹی ایم سی اور آرٹس فیکلٹی اسٹوڈنٹس یونین کے پوسٹرز اور پلے کارڈز کو جلا کر اے بی وی پی کے حامیوں نے گیٹ نمبر چار پر تعینات پولیس عملے کے ساتھ بھی تکرار کی۔
واضح رہے کہ بابل سپریو کی یونیورسٹی میں آمد کی خبر کے بعد سے ہی یونیورسٹی میں احتجاج شروع ہو گیا تھا، جب یونیورسٹی کے گیٹ نمبر تین سے بابل سپریو داخل ہوئے اور پیدل ہی کے پی رائے میموریل ہال کی جانب روانہ ہوئے اس وقت ان کو سیاہ جھنڈے دکھائے گئے اور ان کو گھیر کر احتجاج کیا گیا۔