ریاست اتر پردیش کے سہارنپور کے دیوبند میں جمعیة علماء ہند کی طرف سے شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف جاری تحریک کے تحت آج بھی یہاں دیوبند کے عیدگاہ میدان میں 350 کارکنان نے اپنی گرفتاری دے کر اس قانون کے خلاف احتجاج کرایا۔
عیدگاہ میدان پر منعقد احتجاجی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیة علماء ضلع مظفرنگر کے سکریٹری قاری ذاکر نے سی اے اے کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں بند بے قصوروں کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرانے کی ہے۔ لیکن یہاں اس کا الٹا ہو رہا ہے۔'
انہوں نے کہا کہ 'جمعیة علماء ہند نا انصافی کے خلاف آخر تک لڑائی لڑے گی۔'
جمعیة علماء ہند کے ضلع صدر مولانا ظہور احمد قاسمی نے کہا کہ 'ایک خاص طبقہ کو ہراساں کرنے کے لئے سی اے اے اور این آر سی کو نافذ کیا گیا ہے جبکہ بھارت ایک دستوری ملک ہے۔جس کا دستور تمام مذاہب کو مساوی حقوق دیتا ہے، لیکن موجودہ حکومت ایک خاص فرقہ کو ٹارگیٹ کرکے آئین ہند کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
جمعیة علماءکے ضلع جنرل سکریٹری ذہین احمد نے کہا کہ 'ہم کبھی بھی سی اے اے اور این آر سی کو قبول نہیں کریں گے۔'
انہوں نے کہا کہ 'جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لیتی اس وقت تک جمعیة کی اس تحریک کے تحت احتجاجی مظاہرے اور گرفتاری کا عمل جاری رہے گا۔'
اس دوران احتجاجی مظاہرین نے سی اے اے اور این آرسی کے خلاف زبردست نعرہ بازی کرتے ہوئے اس قانون کو واپس لینے کی مانگ کی۔
اس دوران350 کارکنان نے اپنی گرفتاری دی، جنہیں گرفتار کرنے کے بعد نائب تحصیلدار نے موقع پر ہی رہا کردیا۔