ڈاکٹر کفیل خان نے گزشتہ برس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران تقریر کی تھی جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر کے انہیں این ایس اے کے تحت جیل میں بند کر دیا تھا لیکن اب الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں رہا کرنے کو کہا ہے۔
ڈاکٹر کفیل خان کے وکیل عرفان غازی نے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ' الہ آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے مطابق جو الزامات ڈاکٹر کفیل پر لگائے گئے تھے وہ غلط ہیں اور اسی بنا پر رہا کرنے کا آرڈر دیا ہے۔
عرفان غازی نے مزید بتایا 'ہم نے کئی بار علی گڑھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ملنے کی کوشش کی لیکن ہماری ملاقات نہیں ہو پائی ہے اس کے باوجود ہم نے ہائی کورٹ کے آرڈر میل کے ذریعے بھیج دی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے وکیل وہاں موجود تھے ان کو بھی کاپی دے دی گئی ہے تو امید کی جا رہی ہے ڈاکٹر کفیل کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'ابھی ڈی ایم صاحب سے ملاقات نہیں ہو پا رہی ہے اس لیے کفیل خان جیل سے باہر نہیں آئے ہیں۔
ایڈوکیٹ عرفان غازی نے کہا کہ 'شروع سے ہی ہمارا اور ان کے خاندان والوں کا کہنا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں اور ہائی اب کورٹ کے حلم سے یہ بات ثابت بھی ہوگئی ہے کہ اتر پردیش حکومت کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔