علی گڑھ: اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے بعد ضلع میں موجود مدارس کے سرویں میں کچھ مدارس ایسے بھی پائے گئے جن کے رجسٹریشن نہیں ہیں جس سے متعلق علیگڑھ کے سابق رکن اسمبلی حاجی ضمیر اللہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس کو دوسرے نظریہ سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔Haji Zamir Ullah Reaction On Madarsa Survey
ضمیر اللہ نے کہا کہ مدارس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے اس لئے مدارس کو چلانے کے لئے حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں اگر حکومت کی جانب سے مدارس پر زیادہ پابندی عائد کی گئی تو گھر گھر مدرسے ہونگے، پہلے گھر گھر میں ہی مدارس ہوتے تھے۔ گھر یا علاقے میں جو بھی پڑھے لکھے بزرگ ہوتے تھے وہیں قران پڑھایا کرتے تھے، کیونکہ مدارس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے، کسی کو ڈگری نہیں دیتے اس لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:Madrasa Survey Extended یوپی کے غیر امداد یافتہ مدارس کے سروے کی تاریخ میں توسیع
سابق رکن اسمبلی حاجی ضمیر اللہ نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا عوام روزگار، تعلیم اور مہنگائی پر بات نا کریں اور غیر مسلم کو خوش کرنے کے لئے مدارس کے سرویں کروائے جا رہے ہیں، حکومت نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مدارس کو نشانہ بنایا ہے۔Haji Zamir Ullah Reaction On Madarsa Survey