ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پولیس نے گذشتہ 30 روز سے گمشدہ شخص کے معاملے کو حل کرلیا ہے۔ گمشدہ منوج کمار یادو کا قتل کرکے لاش کو دریا میں پھینک دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق یہ قتل جنسی تعلقات کی بناپر کیاگیاہے ۔پولیس نے اس معاملہ کے تحت تین ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کو برآمد کر لیاہے۔
دراصل رسم نگر تھانہ حلقے کے امرائی گاؤں کے منوج کمار یادو عرف پنٹو کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔
19 ستمبر کمنوج کمار یادو کے بھائی سہج رام یادو نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی کہ مسولی تھانہ حلقہ کے سبھاش عرف پنٹو اور اس کا بھائی سنیل یادو نے منوج کمار یادو کا اغوا کرلیا ہے ۔
پولیس نے جب اس معاملہ کی تحقیقات کی اور 28 ستمبر کو سبھاش، سنیل اور منوج یادو کی اہلیہ نیلم دیوی کو گرفتار کیا۔ اور ان سے پوچھ گچھ کی ۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ سبھاش نامی شخص کا نیلم کے ساتھ جنسی تعلقات تھے. نیلم سبھاش کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔اور اسی لئے اس نے منوج کو راستے سے ہٹانے کی سازش رچی۔
28 اگست کو سبھاش اور سنیل منوج کو اپنے ساتھ گوشت کھلانے کے بہانے لے گئے۔ منوج کو خوب شراب پلائی گئی۔ شراب نوشی کے بعد منوج اپنی بائیک سے واپس نہیں آ سکتا تھا. اس لئے سبھاش اور سنیل اسے اپنی ماروتی میں لٹا کر اسے لے جا رہے تھے. اس کے بعد دونوں نے دریا کے پل کے اوپر سے اسے دریا میں پھینک دیا تھا.
مزید پڑھیں:
مرداباد: شوہر کے ہاتھوں بیوی کا مبینہ قتل
منوج کی لاش ابھی بھی نہیں ملی ہے. یہ پورا واقعہ مقتول منوج کا موبائیل واردات کی جگہ پر گرنے کی وجہ سے منظرِ عام پر آیا ہے۔