ڈاکٹر شائستہ افروز کی ایک تحقیق 'انٹرنیشنل جرنل آف مالیکیولر سائنس میں سی جی آر پی انڈیکس ڈفرینشییل ریگولیشن آف سائٹوکائنس گلیئل سیل ان ٹریجمینل گنگیریا اینڈ اوروفیشئل نوسیسپشن(CGRP induces differential regulation of cytokines from satellite glial cell in trigeminal gangaria and orofacial nociception) کے عنوان سے شائع ہوئی ہے، جسے بیسٹ ریسرچ پیپر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق انسان کے سنٹرل نروس سسٹم میں پائے جانے والے خلیوں کے مجموعے کی بڑھی ہوئی حرکات سے درکار احساس پیدا ہوتا ہے اور ان خلیوں کو قابو میں کر کے درد کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر شائستہ نے یہ تحقیقی مقالہ پروفیسر یوشیزومتسو ( فیکلٹی آف ڈنٹسٹری، تاکو شیما یونیورسٹی، جاپان) کی نگرانی میں لکھا ہے اور اسے سائنسی معیار، مجموعی اثر و مقبولیت، جرنل کے بنیادی موضوع سے تعلق، اوریجنل آئیڈیاز اور 2020 میں اسے ڈاؤن لوڈ کیے جانے کی شرح کی بنیاد پر بیسٹ پیپر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر شائستہ نے اپنے ریسرچ پیپر کے لئے جاپان کی وزارت تعلیم کے تعاون سے تاکو شیما یونیورسٹی کی لیباریٹری میں تجربات کئے۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ڈاکٹر شائستہ افروز کی اوریجنل تحقیق کے لیے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیق شعبہ اور یونیورسٹی کے لیے باعث افتخار ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مؤقر علمی جرائد میں ڈاکٹر شائستہ کے 17 سے زیادہ تحقیقی مقالے شائع کی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے تاکوشیما یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف ہیلتھ سائنس سے پی ایچ ڈی کی ہے۔
مزید پڑھیں:
بارہ بنکی: 'یوگی حکومت ہر محاذ پر ناکام'
اس سے قبل انہوں نے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی لکھنؤ کے پروستھوڈونٹکس شعبہ سے ماسٹرز اور ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج، اے ایم یو سے بی ڈی ایس کیا۔