عمران حسین پیدائشی نابینا ہیں۔ ان کے پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ عمران حسین کا سنہ 1998 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ اول درجے میں ہوا تھا۔
عمران اپنے آپ کو خوش نصیب مانتے ہیں کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ وہ ٹیچر بنیں۔
عمران حسین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں سنسکرت زبان میں نعت پاک پڑھی جسے کافی پسند کیا جا رہا ہے۔
عمران حسین جو بھی سنتے ہیں یا جو انہیں پسند آتا ہے تو وہ اسے یاد کر لیتے ہیں اور گنگناتے رہتے ہیں۔
عمران حسین کی اردو کے تئیں دلچسپی:
عمران حسین نے اے ایم یو سے اردو میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ماسٹرز بھی اردو میں ہی کر رہے ہیں۔ عمران کا کہنا ہے انہیں اردو زبان اچھی لگتی ہے اور مستقبل میں اردو کا ایک اچھا اور کامیاب استاد بننا چاہتے ہیں۔
پانچوں بھائیوں میں سے صرف عمران ہی اے ایم یو سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ فی الحال وہ سرسید ہال (ساؤتھ) کے کمرے نمبر 20 میں رہائش پذیر ہیں۔
عمران حسین ایک ذہین طالب علم
عمران کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ بہت ذہین ہے اوراپنے کمرے سے مولانا آزاد لائبریری اور یونیورسٹی کے دوسری جگہوں پر کسی کی مدد کے بغیر خود ہی چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کمرے سے جگہوں کی دوری قدموں سے یاد کی ہوئی ہے۔
عمران حسین موبائل کے ساتھ کمپیوٹر بھی آسانی سے چلاتے ہیں۔ انہیں بچپن سے ہی گانے کا شوق ہے۔ یونیورسٹی اور علی گڑھ شہر کے مختلف پروگرامز میں حصہ لے کر کامیابی بھی حاصل کی ہے۔