ETV Bharat / state

ڈل اور وولر جھیل سے کیوں ہورہی ہیں مچھلیاں غائب؟ - شیزوتھوریکس

ریسرچ پیپر کے مطابق 'سیاحت کے منفی اثرات، جس میں فلوٹنگ گارڈنس اور سبزیاں اگانے کی وجہ سے مقامی مچھلیاں ہلاک ہو رہی ہیں'۔

ڈل اور وولر جھیل سے کیوں ہورہی ہیں مچھلیاں غائب؟
ڈل اور وولر جھیل سے کیوں ہورہی ہیں مچھلیاں غائب؟
author img

By

Published : Jan 21, 2021, 7:03 AM IST

وادی کشمیر کے مشہور و معروف ڈل اور وولر جھیل میں ان دنوں مقامی مچھلیاں غائب ہورہی ہیں۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بے تحاشا آمد اور جھیل کی گندگی کی وجہ سے یہ مچھلیاں ختم ہو رہی ہیں۔

'لیک فشریز ان کشمیر' کے نام سے ریسرچ پیپر کے مطابق یہ سامنے آیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ان جھیلوں میں اب کارپ مچھلیوں کی پیداوار کی جارہی ہےاور مقامی مچھلیوں پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔

مقامی مچھلیوں میں شامل شیزوتھوریکس کو عوام کافی پسند کرتی ہے، عام زبان میں اس مچھلی کو اسنو ٹراٹ کہا جاتا ہے،آج اس طرح کی کئی مچھلیاں ختم ہونے کے دہانے پر ہیں۔

ڈل اور وولر جھیل سے کیوں ہورہی ہیں مچھلیاں غائب؟

ریسرچ پیپر کے مطابق 'سیاحت کے منفی اثرات، جس میں فلوٹنگ گارڈنس اور سبزیاں اگانے کی وجہ سے مقامی مچھلیاں ہلاک ہو رہی ہیں'۔

سکاسٹ کشمیر کے سائنسداں داکٹر گوہر بلال وانی کا کہنا ہے کہ 'مقامی مچھلیوں کی پیداوار کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ بریڈنگ پیٹرن اور اکویٹک کنڈیشنز آف واٹر باڈیز میں تبدیلی آنا ہے۔ اس کے علاوہ تیرتے باغات اور گندگی کی وجہ سے وادی کی مقامی مچھلیوں کی پیداوار کم ہورہی ہے۔ وہیں دوسری طرف کارپ مچھلی اس ماحول میں بآسانی زندہ رہ سکتی ہے'۔

گوہر بلال وانی نے کہا 'انتظامیہ کو چاہیے وہ شیزو تھوریکس یعنی اسنو ٹراٹ کی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کرے اور اس کی پیداوار کیسے بڑھائی جا سکتی ہے، اس کی تجویز ہم پیش کریں گے'۔

یہ بھی پڑھیے
پارلیمانی وفد کی فاروق عبداللہ سے ملاقات متوقع

ایک مقامی ماہی گیر غلام قادر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت کی ترجیح ماہی گیری کے تحفظ اور ترقی کے بجائے سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے تاکہ ماہی گیروں کا روزگار یہاں پر چل سکے ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ فشریز کی جانب سے یہاں کی جھیلوں میں باہر کی مچھلیوں کی پیداوار کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی مچھلیاں ختم ہو رہی ہیں۔ لیکن مقامی عوام شیزوتھریکس جیسی مچھلیوں کو ہی پسند کرتی ہے۔ اس لیے محکمہ کو چاہیے کہ وہ مقامی مچھلیوں کی نسلوں کو آگے بڑھائے.

وادی کشمیر کے مشہور و معروف ڈل اور وولر جھیل میں ان دنوں مقامی مچھلیاں غائب ہورہی ہیں۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بے تحاشا آمد اور جھیل کی گندگی کی وجہ سے یہ مچھلیاں ختم ہو رہی ہیں۔

'لیک فشریز ان کشمیر' کے نام سے ریسرچ پیپر کے مطابق یہ سامنے آیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ان جھیلوں میں اب کارپ مچھلیوں کی پیداوار کی جارہی ہےاور مقامی مچھلیوں پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔

مقامی مچھلیوں میں شامل شیزوتھوریکس کو عوام کافی پسند کرتی ہے، عام زبان میں اس مچھلی کو اسنو ٹراٹ کہا جاتا ہے،آج اس طرح کی کئی مچھلیاں ختم ہونے کے دہانے پر ہیں۔

ڈل اور وولر جھیل سے کیوں ہورہی ہیں مچھلیاں غائب؟

ریسرچ پیپر کے مطابق 'سیاحت کے منفی اثرات، جس میں فلوٹنگ گارڈنس اور سبزیاں اگانے کی وجہ سے مقامی مچھلیاں ہلاک ہو رہی ہیں'۔

سکاسٹ کشمیر کے سائنسداں داکٹر گوہر بلال وانی کا کہنا ہے کہ 'مقامی مچھلیوں کی پیداوار کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ بریڈنگ پیٹرن اور اکویٹک کنڈیشنز آف واٹر باڈیز میں تبدیلی آنا ہے۔ اس کے علاوہ تیرتے باغات اور گندگی کی وجہ سے وادی کی مقامی مچھلیوں کی پیداوار کم ہورہی ہے۔ وہیں دوسری طرف کارپ مچھلی اس ماحول میں بآسانی زندہ رہ سکتی ہے'۔

گوہر بلال وانی نے کہا 'انتظامیہ کو چاہیے وہ شیزو تھوریکس یعنی اسنو ٹراٹ کی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کرے اور اس کی پیداوار کیسے بڑھائی جا سکتی ہے، اس کی تجویز ہم پیش کریں گے'۔

یہ بھی پڑھیے
پارلیمانی وفد کی فاروق عبداللہ سے ملاقات متوقع

ایک مقامی ماہی گیر غلام قادر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت کی ترجیح ماہی گیری کے تحفظ اور ترقی کے بجائے سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہیے تاکہ ماہی گیروں کا روزگار یہاں پر چل سکے ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ فشریز کی جانب سے یہاں کی جھیلوں میں باہر کی مچھلیوں کی پیداوار کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی مچھلیاں ختم ہو رہی ہیں۔ لیکن مقامی عوام شیزوتھریکس جیسی مچھلیوں کو ہی پسند کرتی ہے۔ اس لیے محکمہ کو چاہیے کہ وہ مقامی مچھلیوں کی نسلوں کو آگے بڑھائے.

ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.