سرکار نے مزید6 کشمیری نوجوان کا پبلک سیفٹی ایکٹ منسوخ کرکے انہیں یوپی کی آگرہ جیل سے وادی منتقل کیا ہے۔ جنہیں قرنطیہ میں کچھ دن گزارانے کے بعد لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔
اترپردیش کی مختلف جیلوں میں 200 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ جن میں سے اب تک کئی افراد کی رہائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ جن میں مشہور تاجر اور تجارتی انجمنیں کشمیر اکنامک الائنز کے سربراہ محمد یاسین خان بھی شامل ہیں۔
گزشتہ اتوار کو بھی اتر پردیش کے جیل میں نظر بند جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 79 اسیران کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے ۔رہا گئے گئے تمام افراد گزشتہ سال پانچ اگست سے قبل ہی گرفتار کیے گیے تھے۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حثیت کے خاتمے سے پہلے ہزاروں افراد کے خلاف پی ایس اے عائد کیا گیا تھا بعد میں انہیں جموں و کشمیر اور باہر کی ریاستوں کے مخلتف قید خانوں میں منتقل کیا گیا تھا ۔
ادھر جموں و کشمیر کے جیلوں سے بھی پی ایس اے تحت گرفتار شدہ افراد کو رہا کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری یے
واضح رہے کووڈ 19 کے پھیلنے کے پیش نظر سپریم کورٹ آف انڈیا نے مرکزی سرکار کو قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہدایات جاری کی یے۔ جس کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں اور زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو اختیار دیا کہ وہ کیس کی نوعیت کے حوالے سے نظر بندوں کی رہائی عمل میں لائیں۔