بابری مسجد معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی نے ای ٹی وی بھارت سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ بابری مسجد مقدمہ آخری مرحلہ میں جاری ہے اور جلد ہی اس کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیس ملکیت کا ہے، اس کا فیصلہ مذہبی اور عقیدت کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا ہے، گزشتہ چالیس روز سے سپریم کورٹ میں سماعت جاری تھی جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیتہ علماء نے ثبوت و دلائل پیش کئے۔
واضح رہے کہ 17 نومبر کو چیف جسٹس رنجن گوگوئی سبکدوش ہونے والے ہیں اور ان کے سبکدوش ہونے سے قبل ہی یہ معاملہ رفع دفع کرنے کی باتیں ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ 17 نومبر تک فیصلہ سنا دیا جائے۔
مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے مسلمانوں اور برادران وطن سے گزارش کی ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد ملک میں امن و امان قائم رکھیں کیونکہ کچھ فرقہ پرست تنظیمیں ماحول خراب کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابری مسجد ملکیت معاملہ میں اور اس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس کیس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سات اور جمعیتہ علماء ہند نے ایک پٹیشن دائر کی ہے، اس کیس کے اہم وکلاء میں ڈاکٹر راجیو دھون، ظفر یاب جیلانی اور جمعیتہ علماء لیگل سیل روز اول سے قانونی خدمات انجام دے رہی ہے۔