ETV Bharat / state

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری سے خصوصی ملاقات - مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی

بابری مسجد ملکیت معاملہ میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور آئندہ ماہ 17 نومبر کو فیصلہ سنائے گی۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی
author img

By

Published : Oct 23, 2019, 10:46 PM IST

بابری مسجد معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی نے ای ٹی وی بھارت سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ بابری مسجد مقدمہ آخری مرحلہ میں جاری ہے اور جلد ہی اس کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی، ویڈیو

انہوں نے کہا کہ یہ کیس ملکیت کا ہے، اس کا فیصلہ مذہبی اور عقیدت کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا ہے، گزشتہ چالیس روز سے سپریم کورٹ میں سماعت جاری تھی جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیتہ علماء نے ثبوت و دلائل پیش کئے۔

واضح رہے کہ 17 نومبر کو چیف جسٹس رنجن گوگوئی سبکدوش ہونے والے ہیں اور ان کے سبکدوش ہونے سے قبل ہی یہ معاملہ رفع دفع کرنے کی باتیں ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ 17 نومبر تک فیصلہ سنا دیا جائے۔

مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے مسلمانوں اور برادران وطن سے گزارش کی ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد ملک میں امن و امان قائم رکھیں کیونکہ کچھ فرقہ پرست تنظیمیں ماحول خراب کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بابری مسجد ملکیت معاملہ میں اور اس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس کیس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سات اور جمعیتہ علماء ہند نے ایک پٹیشن دائر کی ہے، اس کیس کے اہم وکلاء میں ڈاکٹر راجیو دھون، ظفر یاب جیلانی اور جمعیتہ علماء لیگل سیل روز اول سے قانونی خدمات انجام دے رہی ہے۔

بابری مسجد معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی نے ای ٹی وی بھارت سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ بابری مسجد مقدمہ آخری مرحلہ میں جاری ہے اور جلد ہی اس کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی، ویڈیو

انہوں نے کہا کہ یہ کیس ملکیت کا ہے، اس کا فیصلہ مذہبی اور عقیدت کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا ہے، گزشتہ چالیس روز سے سپریم کورٹ میں سماعت جاری تھی جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیتہ علماء نے ثبوت و دلائل پیش کئے۔

واضح رہے کہ 17 نومبر کو چیف جسٹس رنجن گوگوئی سبکدوش ہونے والے ہیں اور ان کے سبکدوش ہونے سے قبل ہی یہ معاملہ رفع دفع کرنے کی باتیں ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ 17 نومبر تک فیصلہ سنا دیا جائے۔

مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے مسلمانوں اور برادران وطن سے گزارش کی ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد ملک میں امن و امان قائم رکھیں کیونکہ کچھ فرقہ پرست تنظیمیں ماحول خراب کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بابری مسجد ملکیت معاملہ میں اور اس میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس کیس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سات اور جمعیتہ علماء ہند نے ایک پٹیشن دائر کی ہے، اس کیس کے اہم وکلاء میں ڈاکٹر راجیو دھون، ظفر یاب جیلانی اور جمعیتہ علماء لیگل سیل روز اول سے قانونی خدمات انجام دے رہی ہے۔

Intro:بابری مسجد ملکیت مقدمہ اور آئندہ دنوں میں آنے والے فیصلہ پر مولانا محمد عمرین محضوظ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ای ٹی وی بھارت پر اپنا خضوصی بیان جاری کیا مولانا نے کہا کہ بابری مسجد مقدمہ آخری مرحلہ میں جاری ہے اور یہ کیس ملکیت کا ہے۔ اس کا فیصلہ مذہبی اور عقیدت کی بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا ہے گزشتہ چالیس دنوں سے سپریم کورٹ دہلی میں سماعت جاری تھی جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیتہ علماء نے ثبوت و دلائل جمع کئے اور مثبت فیصلہ کی امید ہے یاد رہے نومبر 15 یا 16 کو بابری مسجد ملکیت معاملہ کا فیصلہ کے بعد 17 نومبر کو جسٹس نرنجن گوگوئی ریٹائر ہو رہے ہیں مولانا نے مسلمانوں اور برادران وطن سے گزارش کی ہے کہ فیصلہ آجانے کے بعد ملک میں امن و امان قائم رکھیں کیونکہ کچھ فرقہ پرست تنظیم ملک کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہیں مولانا نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ بابری مسجد ملکیت معاملہ میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ اس کیس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سات اور جمعیتہ علماء ہند نے ایک پٹیشن دائر کی ہے اس کیس کے اہم وکلاء میں ڈاکٹر راجیو دھون، ظفر یاب جیلانی اور جمعیتہ علماء لیگل سیل روز اول سے قانون خدمات انجام دے رہی ہیں


Body:۔۔۔


Conclusion:۔۔۔
ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.