نہ صرف فرزانہ بلکہ ان کا اہل خانہ اور پڑوسی بھی قومی پرچم ترنگا بنانے کا کام کرتے ہیں اور ہر برس یوم جمہوریہ، یوم آزادی اور دوسرے قومی تہواروں پر اس ترنگا پرچم کو اسکول اور دوسرے محکمہ میں مہیا کراتے ہیں لیکن لاک ڈاؤن نے ان کے اس کام پر بھی اندھیرا پھیلا دیا۔
ہر کوئی جانتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے حالات کافی خراب ہیں۔ کورونا اور لاک ڈاؤن نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے اور فرزانہ اور ان کے اہل خانہ کا قومی پرچم بنانے کا کاروبار بھی اسی لاک ڈاؤن کی نذر ہوگیا۔
قومی پرچم بنانے والی یہ گھریلو صنعت بھی لاک ڈاؤن کی زد میں آئی اور جہاں پہلے یہ 20 لاکھ سے زائد قومی پرچم بنانے تھے وہیں اب یہ تعداد محض 20 ہزار تک محدود ہوگئی ہے۔
گھروں میں بنائے جانے والے اس پرچم کو ممبئی کی عبدالرحمن اسٹریٹ سے لے کر ہول سیل دکانداروں کو فروخت کیا جاتا ہے اور یہاں سے اسکول اور دوسری جگہوں سے لوگ خرید کر جاتے ہیں۔ اب ایسے میں جب روزی روٹی کا مسئلہ سامنے ہو تو ملک کی آزادی کے اس پرچم کو بنانے والے اب کووڈ قوانین سے کیسے آزادی حاصل ہو اس بارے میں فکرمند ہیں۔