کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف سماعت کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ نے ان تمام عرضیوں کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ اسلام میں حجاب ضروری نہیں ہے۔ Hijab Ban in Karnataka Educational Institute
کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا کہ حجاب اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے اور اسکول کی طالبات یونیفارم پہننے سے انکار نہیں کرسکتی۔ ہائی کورٹ نے مسلم طالبات کی جانب سے حجاب پہننے کی درخواست کو بھی مسترد کردیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد سے ملک کی مسلم خواتین میں تشویش کا ماحول دیکھا جارہا ہے اور وہ اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔
اس تعلق سے مہاراشٹر کے مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں کی خواتین نے بھی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔
مالیگاؤں گرلس ہائی اسکول کی سابق پرنسپل رقیہ پروین نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب سے متعلق جو فیصلہ دیا ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ بات بالکل درست نہیں ہے کہ حجاب اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذہب اسلام میں حجاب کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے۔ حجاب پہننا ہمارا شرعی حق ہے اس لیے کرناٹک ہائی کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
اس سلسلے میں الخدمت خواتین گروپ کی صدر علقمہ کوثر نے کہا کہ پردہ کرنا(حجاب پہننا) مسلم خواتین کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے اس لیے کرناٹک ہائی کورٹ مسلم طالبات کو حجاب پہننے کر تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے تاکہ مسلم طالبات بھی آگے بڑھے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔