ادھو ٹھاکرے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'میں متحدہ مہاراشٹر کی طرف پرعزم ہوں، بیلگام میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ حیرت انگیز ہے۔ میں اس معاملے کی نگرانی کرنے والی کمیٹی سے ملاقات کروں گا۔'
انہوں نے کہا کہ 'مرکزی حکومت تمام ریاستوں کی سرپرست ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام ریاستوں کے ساتھ غیرجانبدار ہوگا لیکن مرکز گذشتہ پانچ برسوں سے سپریم کورٹ میں کرناٹک کا ساتھ دے رہا ہے۔ یہ واقعی حیران کن ہے'۔
گذشتہ سال 7 دسمبر کو مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے دونوں ریاستوں کے مابین سرحدی تنازع پر ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ میں بارڈر ایشو پر فاسٹ ٹریک سماعت کی کوشش کی جائے گی۔
اس سے قبل 19 جنوری کو شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا تھا کہ 'کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان بیلگام سرحدی تنازع ایک طویل تنازع ہے لیکن اگر مرکزی وزیر داخلہ چاہیں تو اس کا حل نکالا جاسکتا ہے۔'
انہوں نے کہا کہ 'اگر وزارت داخلہ مسئلہ کشمیر کو حل کرسکتا ہے اور آرٹیکل 370 کو منسوخ کر سکتا ہے تو میرے خیال سے امت شاہ چاہیں تو یہ سرحدی مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے۔ معاملہ وزارت داخلہ کے ماتحت آتا ہے۔ یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔'