بھیونڈی سے متصل آلکھی ولی گاوں، ٹھاکر پاڑہ، امبر پاڑہ، بھویال پاڑہ، دھولسانہ پاڑہ،کھولات پاڑہ، مورے پاڑہ سمیت اطراف کے دس تا بارہ گاؤں میں پانی کی شدید قلت ہے۔
ان گاؤں کے مکین پانی کی تلاش میں تیز دھوپ میں تین سے پانچ کلو میٹر پیدل نکلتے ہیں جبکہ اطراف میں واقع ندی نالے اور کنوئیں پوری طرح سوکھ چکے ہیں۔
مقامی افراد ندی، نالے اور کنوؤں سے ایک ایک بوند پانی حاصل کر کے اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ آلودہ پانی کے استعمال سے ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔
کورونا وباء کے سبب ضلع انتظامیہ ان گاؤں کے باشندوں کے لیے ٹھوس اقدام تو دور ابھی تک کوئی بھی افسر ان پریشان حال لوگوں کی خیریت پوچھنے نہیں آیا۔
مقامی افراد کے مطابق چند برس قبل حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے خرچ کر کے 'جل شیوار' اسکیم کے تحت محکمہ جنگلات کے علاقے میں 12 تا 14 باندھ کی تعمیر کی گئی تھی تاکہ مذکورہ علاقوں میں گرمی کے دنوں میں پانی کی کوئی تکلیف نا ہو۔
لیکن ٹھیکیداروں کے ناقص درجہ کے کام کے سبب تعمیر کے ایک سال میں باندھ ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ مقامی باشندے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔