بھوپال:ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے حزب التحریر کے کارکنان کی گرفتاری پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جہادی کاکروجوں کے لئے مدھیہ پردیش کی پولیس پرسٹیسائس کی طرح ہے انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال کر مارے گی۔ انہوں نے کہا اب تک تین بڑی کارروائیاں ریاست نے کی جا چکی ہے جس میں جمعیت المجاہدین کے تین رکن بھوپال میں پکڑے گئے جو بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے تھے۔ آٹھ ریاستوں سے ستر لوگوں کی گرفتاریاں کی گئی تھی۔
انہوں نے کہاکہ دوسرا پی ایف آئی پاپولر فرنٹ آف انڈیا کہ 22 لوگوں کو ریاست کی اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا۔ اور اب تیسرا یہ حزب التحریر جس کے 10کارکنان بھوپال سے 1 ضلع چھندواڑا سے اور 5 حیدرآباد سے گرفتار کئے گئے۔ وہی ریاست مدھیہ پردیش سے پکڑے گئے لوگوں میں 7 لوگوں کے تبدیلی مذہب کی بات کی جائے تو یہ ساری باتیں ان لوگوں سے پوچھ گچھ میں نکلتی چلی آ رہی ہے۔
ریاستی وزیر کے مطابق اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں برین واش کرنے والے جو لوگ ہیں یہ معمولی لوگ نہیں ہیں اس میں ایک پروفیسر، ایک جم کا ٹرینر، ایک شخص کوچنگ سینٹر چلاتا ہے۔ اس میں ایک سافٹ ویئر انجینئر ہے،ایک سافٹ وئیر کا ٹیکنیشین ہے اس طرح کے لوگ لوجہاد جیسے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندو لڑکیوں کا برین واش کر کے انہیں پھسا کر شادی کر کے پہلے لڑکوں کو مسلم بنایا گیا اور پھر ان لڑکوں کے ذریعے لڑکیوں کا مذہب تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہم ریاست میں ان کی سازشیں چلنے نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:Dhar Murder Case دھار قتل کیس میں پولیس نے فوری کارروائی کی، نروتم مشرا
نروتم مشرا نے ان میں شامل پروفیسر پر کہا کہ وہ اسد دین اویسی کے کالج میں پڑھایا کرتا تھا۔ اس سے آپ کو ان کا نیٹ ورک اور کلنکشن صاف طور سے سمجھ میں آئے گا۔ ہم پورے ملک میں ان کے کنکشن کہاں کہاں ہے ان سب کی جانچ کروا رہے ہیں۔ اور اب بھی دھیرے پیاز کے پتوں کی طرح ان کی پرتیں کھلتی جائیں گی۔