مدھیہ پردیش کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ نے دل بدل قانون کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا بھارت کی سیاست میں دل بدل بری طرح سے پھیل رہا ہے۔کیونکہ اقتدار کسی کا ہوتا ہے اور پھر رکن اسمبلی کی خرید و فروخت بھی عام ہوگئی ہے ۔اب عوام کی مرضی کے خلاف حکومت بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں دل بدل کی روایت سنہ 1967 سے شروع ہوئی تھی ۔جب ریاستی حکومتوں نے دل بدل کر اپنی حکومتوں کو قائم کیا تب اس بات سے فکرمند ہوکر راجیو گاندھی جی نے سنہ 1985میں دل بدل قانون لایا لیکن اس دل بدل قانون میں بھی ترمیم کی گئی ۔آج کے وقت میں یہ دل بدل بہت بڑی پریشانی بن گئی ہے ۔اس لیے اس پر فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
دگ وجے سنگھ نے وزیراعظم اور سب ہی پارٹیوں کے لیڈروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر غور و فکر کرنے کی بہت ضرورت ہے۔دگ وجے سنگھ نے کہا جو شخص اپنی پارٹی سے انتخاب لڑتا ہے اور اگر وہ اسے چھوڑ دیتا ہے تو اسے چھ سال تک کہیں بھی انتخابات لڑنے نہ دیا جائے اور نہ ہی کسی ایسے عہدے پر فائز کیا جائے جس سے اسے فائدہ ہو۔تب ہی جاکر اس دل بدل کو روک سکتے ہیں اور یہی ایک راستہ ہے جس سے ہم ان سب پر لگام لگا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ریاست مدھیہ پردیش میں اس بار سب سے زیادہ دل بدلنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔