اندور: شادی ہر انسان کی زندگی کا اہم ترین رکن ہے، وہ اس کے لیے جوڑے کا انتخاب سے لے کر شادی تقریب عالی شان طریقے سے انجام دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ دلہن رخصتی کے لیے ڈولی کی خواہش کرتی ہے، تو دولہا لگزری گاڑی سے برآت لے جانا چاہتا ہے، ساتھ ہی ضیافت کا بھی وسیع پیمانے پر اہتمام کی جستجو رکھتا ہے۔ لیکن یہ ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا کیونکہ کسی کی معاشی حالت مضبوط ہوتی ہے تو کسی کی کمزور اس کے باوجود کچھ لوگ قرض لے کر تو کچھ لوگ اپنے آب و اجداد کی ملکیت فروخت کر عالی شان تقریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ جو بعد میں ان کے لیے مشکل کا باعث بن جاتی ہے۔
غور طلب ہو کہ مدھیہ پردیش کے تجارتی دارالحکومت کہے جانے والے اندور میں سماجی تنظیم غریب نواز ویلفیئر سوسائٹی شادی تقریب کے لیے تمام برادریوں سے مختصر اندراج لے کر عالی شان تقریب کا اہتمام کرتی ہے۔ جس کی ہر کوئی خواہش کرتا ہے، دلہن کے لیے ڈولی تو دولہے کے لیے لگزری گاڑی کے ساتھ ہی مہمانوں کے لیے ضیافت کا بندوبست ہوتا ہے۔ نئے جوڑوں کو زندگی گزارنے کے لیے تمام ضروری اشیاء تحفتا دی جاتی ہے۔
واضح ہو کہ اس اجتماعی شادی میں شہر کے کئی معزز لوگ بھی شرکت کرتے ہیں۔ اس موقع پر تنظیم کے صدر کتب الدین چودھری نے بتایا کہ اس بار 40 جوڑوں کی شادی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں دیگر ریاستوں سے بھی جوڑوں نے شرکت کی ہے۔ اس کے تمام اخراجات کمیٹی کے ذمہ دار اٹھاتے ہیں۔ ضیافت کے ساتھ ہی دولہا دلہن کو زندگی گزارنے کے لیے تمام ضروری اشیاء تحفتا دی جاتی ہے۔ یہ کام ہم گزشتہ 15 سالوں سے انجام دے رہے ہیں۔ وہیں سماجی کارکن ناظمہ خالد خان کا کہنا ہے کہ میں پچھلے 20 سالوں سے خدمت کے کاموں کو انجام دے رہی ہوں۔ شادیوں میں ہماری ذمہ داری ہوتی ہے کہ دلہن کے نکاح رسم کی ادائیگی وکیل اور گواہوں کی موجودگی میں شفاف طریقے سے انجام دیا جائے۔
مزید پڑھیں:
- نفرتوں کے دور میں محبت کو عام کرنے کا واحد راستہ خواجہ غریب نوازؒ کا مشن ہے
- سال 2023 کا سب سے اہم عالمی موضوع غزہ جنگ، ایک بے مثال انسانی بحران اور عالمی رد عمل
مولانا ریحان فاروقی کا کہنا تھا کہ ایسی شادیاں ملت کے لیے نفع بخش ہیں کیونکہ اس سے فضول خرچی سے بچا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی سنت طریقے پر عمل ہوتا ہو ہے۔ کوئی بھی سماج تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ منظم ہو خواجہ غریب نواز ویلفیئر سوسائٹی کی مختلف برادری کو ایک ہی شامیانے میں جمع کرنے کی یہ کوشش قابل ستائش ہے۔