ریاستی حکومت کے اس اقدام پر عام لوگوں اپنے رد عمل کا اظہار ای ٹی وی بھارت سے کیا۔
اس دوران مقامی شہری عمران نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے جو کورونا کی چین کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اس سے عام آدمی کو کافی تکلیف ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ روز مرہ کا کام کرنے والے عام لوگوں کو حکومت مدد کرے۔ خاص کر کسانوں کی حالت آج بہت خراب ہے۔ فصل نہ ہونے کی وجہ سے کسان بے حد پریشان ہیں۔ عام لوگوں اور کسانوں کی مدد کے لیے حکومت مالی امداد یا پھر اناج سے انکی مدد کریں۔
مقامی شہری راجو نے کہا کہ ریاستی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ حالات کی مناسبت سے بہت بہتر ہے۔ ممکن ہے اس اقدام سے ریاست میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ حکومت کی جانب سے کورونا کی روک تھام کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے لیے جارہے فیصلوں کا تعاون کریں۔
مقامی دکاندار اشوین نے کہا کہ گذشتہ سال بھی ہم لوگ اس تکلیف سے گزرے ہیں ایک بار پھر سے ہم لوگوں کو اس تکلیف کو برداشت کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ کورونا آج پورے ملک میں پوری شدت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ہم تمام لوگوں کو چاہیے کہ حکومت کی جانب سے کیے جارہے کاموں کا تعاون کریں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں ہے لیکن لاک ڈاؤن عارضی طور پر کورونا کو کچھ حد تک روکنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:
اسپتال میں اسٹریچر کی قلت، اسکوٹی کے ذریعہ مریض کو ایمبولنس تک لے جایا گیا
انہوں نے کہا کہ کورونا کی روک تھام عام لوگوں کے ہاتھ میں ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صحت کا خیال رکھیں ماسک لگائیں سینیٹائزر کا استعمال کریں اور لوگوں سے دوری بنائے رکھیں۔