بنگلور: کرناٹک میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے حال ہی میں اسکولی نصاب سے مجاہد آزادی ٹیپو سلطان سے منسلک ایک سبق کو نکالا تھا اور اب مجاہد آزادی بھگت سنگھ و کئی اہم شخصیتات کی تحریروں کو دسویں جماعت کے نصاب سے نکالا ہے اور حیر انگیز طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رہنما ہیڈگیوار کی تقریر اس کتاب میں شامل کی گئی ہے۔ بی جے پی حکومت کے اس اقدام سے ریاست کے سماجی و سیاسی حلقوں میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔
اس سلسلے مین ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے آل انڈیا سیو ایجوکیشن کمیشن کی رکن ایشوریہ نے بتایا کہ بھگت سنگھ جس کا نام جنگ آزادی کی ایک مشعل کے مانند ہے، ان کی تاریخ کو اسکول کی کتاب سے مسخ کرکے آر ایس ایس کے ہیڈگیوار کی تقریر کا شامل کرنا ہرگز ناقابل قبول ہے۔ ایشوریہ نے بتایا کہ ریاست کے معروف مصنفین اے این مورتی راؤ، سا را ابوبکر، و پی لنکیش کی تحریریں جو کہ ملک مین امن و امان کی بات کرتے ہیں، جنگ کی مخالفت کرتی ہیں اور دوسرے معنوں میں یہ تحریریں آر ایس ایس کے نظریہ پر سوال اٹھا تے ہیں، کو اسکول کی کتابوں سے نکالا گیا ہے اور ان کی جگہ آر ایس ایس کے سربراہ ہیڈگیوار کی تقریر کو شامل کیا گیا ہے جس کا ملک ہند کی آزادی سے کوئی لینا دینا نہیں.
ایشوریہ نے کہا کہ بی جے پی کا یہ اقدام کہ جس میں آر. ایس. ایس کے نظریہ کو شامل کرنا گویا ایسا ہے کہ آنے والی نسلوں کو یہ نظریہ دیا جاییگا کہ آج کی تعلیم مستقبل میں بچوں کی ذہنیت کو طے کرتی ہے. انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں سائنسداں بنے، فائٹر بنے، ک کی آزادی و تحفظ کرنے والا بنے تو آج کے تعلیمی نصاب کو بھی ویسا ہی ہونا ہوگا جب کہ ہیڈگیوار جیسوں کی تقریروں سے بچے مذہبی اعتبار سے جنونی و نفرت کرنے والے ہونگے.
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی حکومت کے اس اقدام سے جس میں کہ تعلیمی نصاب میں آر. ایس. ایس کے نظریہ کو شامل کرنے سے ممکن ہے کہ کچھ اس طرح کے نقصانات ہوں جیسے ملک میں جمہوری؛ عتبار سے جو جدوجہد ہوئی وہ برباد ہوگا اور آگے چل کر طلباء کے دلوں میں ذات پات و مذہب کے اعتبار سے لوگوں کے تییں نفرت بھری ہوگی جو کہ نہ صرف ایک صحتمند معاشرے کے لیے نقصاندہ ہے بلکہ ملک ہند کے لیے خطرہ ہے.
ایشوریہ نے بتایا کہ بی جے پی حکومت کا یہ اقدام نوجوانوں کو اندھا اور مذہبی جنونی بنائیگا جس سے ان میں سوال کرنے کا انصاف کے لئے آواز اٹھانے کا جذبہ ہی ختم ہوگا اور یہ اقدام اس بات کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ وہ تیزی سے ہندو راشٹرہ کی اور بڑھ رہے ہیں، جہاں پر جمہوریت و دستوری حقوق کی کوئی اہمیت نہ ہوگی. ایشوریہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہویے کہا کہ آر. ایس. ایس و بی جے پی اس قسم کے اقدامات سے ہمارے بزرگ مجاہدین آزادی بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خان و اسی طرح پنرجہرن کو ریوائو کرنے والے ودیا ساگر و کویمپو جیسے پروگریسو شخصیات کے انکلوسیو سوسائٹی کی تائید کرنے والوں کے نظریہ کے سخت خلاف ہے اور اسی لیے بی جے پی حکومت ان سب کو برباد کرکے نئی نصل و نوجوانوں میں اپنے نفرت بھرے نظریہ کو تھوپ کر ہندوستانیوں کو غلام بنانے کی فراق میں ہے.
یہ بھی پڑھیں:
Jamia Masjid Is A Temple : جامعہ مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت طلب
انہوں نے کہا اسکول کی کتابون میں بی جے پی کی جانب سے آر. ایس. ایس کے نظریہ کو شامل کرنا گویا زہر گھولنے کے مترادف ہے اور اس سے ملک سینکڑوں سالوں پیچھے دھکیلنے کی کوشش ہے. اس سلسلے میں آل انڈیا سیو ایجوکیشن کمیٹی کی جانب سے کرناٹک کے گورنر کو ایک یادداشت پیش کی جاییگی یہ مانگ کرتے ہوئے کہ اسکولی کتابوں میں بی جے پی ھکومت کی چھیڑ چھاڑ پر روک لگائی جائے. اس سلسلے میں ای ٹی وی بھارت نے کرناٹک اقلیتی کمیشن کے چیئرمین عبدالعظیم سے استفسار کیا لیکن انہوں نے اس تعلق سے کوئی بیان نہ دیا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تفصیل حاصل کرینگے اور اس پر کوئی کارروائی کرینگے.