شاہ فیصل نے شمالی کشمیر کے سرحدی قصبہ اوڑی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ہر کسی کو حق بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر بھیج دیں، جب باقی پارٹیوں کے لیڈر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے باہر بھیج سکتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ حریت لیڈروں کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو باہر پڑھنے کے لئے بھیجیں'۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی تنقید کرنی ہو یا کسی ایجنڈے کی تنقید کرنی ہو تو وہ منطقی ہونی چاہئے ایسی تنقید کرنا لازمی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ وزارت امور داخلہ نے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 14 حریت لیڈروں کے 21 اپنے بچے یا قریبی رشتہ دار ملک کے باہر مختلف ممالک میں یا تو تعلیم حاصل کررہے یا نوکریاں کررہے ہیں۔
حریت رہنماؤں کی فہرست میں حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی و میر واعط عمر فاروق اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ انداربی بھی شامل ہیں۔