علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے طلبہ فنکاروں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت "گزشتہ 75 برسوں کے دوران ہندوستان میں اختراعات" کے موضوع پر دیواروں پر خوبصورت تصاویر اور پینٹس کئے۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں، اسکولوں اور دفاتر میں 'آزادی کا امرت مہوتسو' کے تحت پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مقابلے میں عبیرہ جاوید کی قیادت میں ادیتی، ارشی گپتا اور عفرہ صدیقی پر مشتمل ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا، جبکہ ویبھو پاٹھک اور ان کے رفقاء راجیو، انکُر اور پونم پر مشتمل ٹیم دوسرے مقام پر رہی۔ AMU Students paints on wall
گروپ لیڈر ندا اشفاق کے ساتھ علوینہ ندیم، احمد نساء اور انوراگ کمار کی ٹیم نے تیسرا انعام حاصل کیا۔ 50 سے زائد طلباء کے ساتھ کل 14 ٹیموں نے مقابلے میں حصہ لیا، جبکہ جج کے طور پر آرکیٹیکچر شعبہ اور فائن آرٹس شعبہ کے فیکلٹی ممبران نے ذمہ داری ادا کی۔ انعامات تقسیم کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ " طلبہ فنکاروں نے سائنس و ٹکنالوجی کی تاریخ کے اہم واقعات کو شامل کرتے ہوئے بھارتی اختراع کے مختلف ادوار کو برش کے ذریعہ استعمال کرتے ہوئے دیواروں پر نقش کیا۔ ان کی وال پینٹنگز ان خیالات کی عکاسی کرتی ہیں جو بھارت کی آزادی کے پچھلے 75 سالوں میں سامنے آئی"۔
مزید پڑھیں:۔ Protest Against Zaid Pathan's Arrest in AMU اے ایم یو طلباء کا زید پٹھان کی گرفتاری کے خلاف مارچ
انہوں نے مزید کہا کہ "بھارت اختراع و جدت طرازی کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس کا مشاہدہ ہمارے متعدد اسٹارٹ اپس، یونیکورنز، فارما ایج، ڈیزائن اور بے شمار ایپس میں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی میں تحقیق اور جدت طرازی کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پروفیسر سید امتیاز حسنین (ڈین، فیکلٹی آف آرٹس اور چیرمین، آئی سی اینڈ یو آئی سی) نے کہا کہ آزادی کی گزشتہ تین چوتھائی صدی سے بھارتی مصنوعات کو طلباء نے دیواروں پر خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ پروفیسر محمد سجاد اطہر (کوآرڈینیٹر، آئی سی اینڈ یو آئی سی) نے ادارے کی رپورٹ پیش کی اور آئندہ کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ "حکومت ہند کی نیشنل انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ بالیس 2019 کے نام کے بعد اے ایم یو نے فیکلٹی انتر پنیور شپ، اسٹارٹ اپس اور انٹلیکچو ئل پراپرٹی رائٹس کے لیے پالیسیاں اپنائیں اور جلد ہی طلبہ کی انتر پیرینیور شپ پالیسی بھی اپنائی جائے گی"۔
پروفیسر بدر جہاں (صدر شعبہ فائن آرٹس) نے کہا کہ ایک فنکار کے طور پر وہ جانتی ہیں کہ ہنر اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کتنا ضروری ہے۔ انہوں نے پروگرام کی مختصر رپورٹ پیش کرنے کے بعد کہا کہ طالب علم فنکاروں کو کمیونٹیز کو ساتھ لا نے کے لیے آرٹ کی طاقت کا استعمال کرنا چا ہیے۔