اردو اکیڈمی دہلی کی جانب سے دہلی کے بزرگ اور جواں عمر قلمکاروں کا مقبول ترین پانچ روزہ ادبی اجتماع کا آغاز ہو چکا ہے،اس نئے پرانے چراغ کی شروعات تقریبا 22 برس پرانی ہے تب اس کا آغاز اس خیال کے ساتھ کیا گیا تھا کہ نئے قلمکار اور پرانے قلمکار اپنی تخلیقات کو ایک دوسرے کے سامنے پیش کر سکیں۔
Naye Purane Chirag Program
اس پر ای ٹی وی بھارت کے نمائندے نے دہلی یونیورسٹی شعبہ اردو کے سابق صدر پروفیسر ابن کنول سے بات کی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ وہ گذشتہ 22 برسوں سے نئے پرانے چراغ کا حصہ رہے ہیں گذشتہ دو برس کرونا وبا کی نظر ہوئے لیکن شکر ہے کہ اب دہلی اردو اکیڈمی کی سرگرمیوں کا آغاز نئے پرانے چراغ سے ہوا گیا ہے،اردو اکیڈمی دہلی کی گورننگ باڈی کے رکن اور صحافی جاوید رحمانی نے کہا کہ دہلی اردو اکیڈمی ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے جس نے کرونا کے دور سے نکل کر اتنی بڑی تقریب منعقد کی ہے۔ اس 5 روزہ تقریب تقریبا 500 شعراء شرکت کریں گے۔
ڈاکٹر عالیہ نے کہا کہ دہلی اردو اکیڈمی کے ذریعے منعقدہ نئے پرانے چراغ نئے قلمکاروں کے لیے بہتر مواقع فراہم کرتا ہے ،یہاں پر نئے لوگوں کو اس طرح سے فائدہ ملتا ہے کہ وہ پرانے قلمکاروں کے سامنے اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں جس سے ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں:Delhi Urdu Academy: دہلی اردو اکیڈمی کا دلت شاعر راجیو ریاض کو مدعو نہ کرنا شرمناک: کلیم الحفیظ
وہیں نمائندے نے راجیو ریاض پرتاپ گڑھی سے بھی بات کی جس میں انہوں نے بتایا کہ پہلے انہیں نئے پرانے چراغ کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا جس پر انہیں اعتراض تھا لیکن بعد میں انہیں مدعو کرلیا گیا ہے اب کوئی ناراضگی نہیں ہے۔