قومی دارالحکومت دہلی کے انڈیا اسلامک کلچر سینٹر میں قومی تنظیم کی جانب سے میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں 'کل ہند قومی تنظیم' کے صدر طارق انور کہا کہ یہ اجلاس بھارت کی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا ہے۔
طارق انور نے کہا کہ قومی تنظیم نفرت کے خلاف پہلے دن سے کام کررہی ہے اور یہ ان تمام لوگوں کا استقبال کرتی ہے جو ملک میں محبت کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جو سیاست ہورہی ہے وہ نفرت کی سیاست ہے۔ لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا ان کا مقصد ہے اور فرقہ پرستی کو کیسے ختم کیا جائے نیز ایسی ہی حقیقت سے روبرو کرانے کا کام قومی تنظیم کرے گی اور یہ میٹنگ بھی 'نفرت چھوڑو بھارت جوڑو' کے نعرے کے تحت منعقد کی گئی ہے۔
اس دوران رکن پارلیمان عبدالخالق نے کہا کہ 'ناتھو رام گوڈسے اور ساورکر کے نظریے میں یقین رکھنے والی طاقت بڑی تیزی سے اس بات کی تشہیر کررہی ہیں کہ ملک کی تقسیم کے لیے مہاتما گاندھی قصوروار ہیں اس لیے اب ضروری ہوگیا ہے کہ گاندھی وادی نظریہ میں یقین رکھنے والے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں اور اُس نظریہ کو فروغ دیں جس نے ملک کو آزادی دلائی۔
دہلی پردیش قومی تنظیم کے اس اجلاس میں متعدد قرارداد پیش کی گئیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔
ملک کی تقسیم کے لیے گاندھی جی کو مورد الزام ٹھہرانے والوں کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
مرکزی حکومت ماب لنچنگ اور ہجومی تشدد پر سخت قانون بنائے اور جن لوگوں نے قانون ہاتھ میں لے کر اس عمل کو انجام دیا ہے ان پر قتل کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں۔
الہٰ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے گائے کو قومی جانور قرار دیے جانے کے مشورے پر مرکزی حکومت اپنا موقف فوراً واضح کرے۔