ریاست بہار میں سیتامڑھی کے سورسنڈ نگر پنچایت میں بابا بھیم راؤ امبیڈکر ٹاور چوک کے نزدیک سہسرام جانے والی سڑک پر آج صبح چاندی کی چھوٹی چھوٹی بندی بکھری ملی، جس کو دیکھ کر مقامی لوگ حیرت میں پڑ گئے کہ سورسنڈ کے سڑکوں پر اتنی مقدار میں چاندی کہاں سے آئی۔
اس واقعہ سے متعلق مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ نیپال سے اسمگلر چاندی اسمگلنگ کر تے ہیں ، حالانکہ ان دنوں سورسنڈ میں نیپالی کرنسی کا کاروبار زور و شور سے چل رہا ہے، جس کی وجہ سے سورسنڈ میں نیپالی کرنسی لی جا رہی ہے۔
کاروباری اسی کرنسی سے نیپال سے چاندی اور سونا خرید کر بھارتے تھوک بازار میں فروخت کرتے ہیں ۔
مقامی لوگوں کا قیاس آرائی ہے کہ اسمگلر چاندی کی بوریاں موٹر سائیکل پر لے کر نیپال سے رات کے وقت بھارت کے سرحد میں داخل ہوتے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ اسی دوران چاندی بوری سے نکل کر سڑک پر بکھر گئی ہوگی۔
اطلاع ملنے کے بعد سورسنڈ پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش شروع کردی۔