گیا ضلع میں واقع شتابدی پبلک اسکول میں طالب علموں سے سرکاری وظیفہ کے نام پررقم وصولنے کا معاملہ سرخیوں میں آیا ہے۔ اسکول کے خلاف طالب علموں کے گارجین نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔گیا میں واقع شتابدی پبلک اسکول کے طالب علموں کو سرکاری وظیفہ حاصل کرنے کے لیے اسکول میں پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں ، سرکاری وظیفہ جیسے پری میٹرک اسکالرشپ کے فارم پر پرنسپل کے دستخط کرانے کو 30 روپئے بونافائڈ کے نام پر فیس جمع کرنی ہوتی ہے جس پر طالب علموں کے گارجین نے مخالفت کی ہے۔ School Takes Money from Students for Scholarships
ایک بچےکے سرپرست ابولفرح نے سوال کھڑا کیا ہے کہ حکومت غریب بچوں کی تعلیم کے لیے وظیفہ دیتی ہے تاہم اسکول غریب بچوں کی مدد کے نام پر اضافی رقم وصول رہا ہے۔ حالانکہ بونافائڈ سرٹیفکٹ وظیفہ کی رقم حاصل کرنے کے لیے الگ سے بنانے نہیں ہیں۔ فارم کے فارمیٹ میں ہی وہ بھی شامل ہے تاہم اسکول میں پیسے لیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے جن کے والدین کسی طرح سے انہیں موٹی فیس اداکرکے پڑھارہے ہیں تاہم اضافی فیس ادا کرنے کے وہ اہل نہیں ہیں۔ Gaya School takes money for Bonafide
اس حوالے سے اسکول کے سکریٹری پروفیسر بدیع الزماں نے بتایا کہ انہیں اس تعلق سے علم نہیں ہے کیونکہ منیجمنٹ نے وظیفہ کے تعلق سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے بلکہ اسکول منیجمنٹ نے یہ ضرور کیا ہے کہ جو بچے باہر سائبر کیفے وغیرہ سے وظیفہ کے لیے فارم بھرواتے ہیں جنہیں سو روپیے یا اس سے زیادہ رقم ادا کرنی ہوتی ہے ویسے بچے اپنے اسکول کے ہی کسی ٹیچر سے فارم بھروائیں اور اس کے بدلے انہیں صرف پچاس روپیے ادا کرنے ہوں گے لیکن بونفائڈ سرٹیفکٹ کے نام پر کوئی رقم نہیں لی جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی سطح سے تحقیقات کریں گے اگرایسا ہوا ہے تو کاروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لیے متعلقہ اسکول اور کالج کو اسٹوڈنٹس کی تصدیق کرنی ہوتی ہے، فارمیٹ میں ہی بونافائیڈ شامل ہے حالانکہ بونافائیڈ لازمی نہیں ہے۔