کیمور: بہار کے ضلع کیمور کے سرکاری ہسپتال میں باحجاب خاتون کے ساتھ بدسلوکی کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ Kaimur Govt Hospital Hijab
اطلاعات کے مطابق موہنیاں شہر کے وارڈ نمبر سات کے رہائشی علاؤ الدین انصاری کی اہلیہ گوہر آرا اپنی بیٹی عالیہ کی علاج کے لیے سرکاری ہسپتال پہنچی جہاں ڈاکٹر پریم شنکر نے حجاب پر اعتراض کرتے ہوئے علاج کرنے سے انکار کردیا۔ Muslim Woman Alleges She Was Refused Treatment
گوہر آرا کا کہنا ہے کہ حجاب دیکھتے ہی ڈاکٹر غصے میں آگئے اور انہیں ماسک پہن کر آنے کو کہا، جس پر انہوں نے کہا کہ 'جب وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو ڈھک کر رکھی ہیں تو پھر ماسک پہننے کی کیا ضرورت ہے۔
وہیں ڈاکٹر حجاب کو اتارنے اور ماسک لگا کر آنے کی ضد پے اڑے رہے اور کہا کہ حجاب اتار کر آئیں گی تبھی دوائی لکھیں گے۔
اس کے بعد ڈاکٹر پریم شنکر نے دوائی کی پرچی پر ہی لکھا دیا کہ حجاب اتار کر ماسک لگا کر آئیے۔
حجاب کی وجہ سے علاج سے انکار کرنے کی اطلاع ملنے لڑکی کے والد اور مقامی کانسلر سمیت متعدد لوگ ہسپتال پہنچے اور ڈاکٹر سے پورا معاملہ جاننے کی کوشش کی۔ اس دوران ہسپتال میں خوب ہنگامہ بھی ہوا۔
وہیں، ڈویژنل اسپتال کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اے کے داس سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حجاب کی وجہ سے دوائی دینے سے انکار کرنا غلط ہے، جب کہ حجاب تو مکمل حفاظت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حجاب کرنے والی خواتین کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری جانب اس سلسلے میں سماجی کارکنان نے ڈاکٹر کی اس بدسلوکی کے خلاف اقلیتی امور کے وزیر زماں خان سے شکایت کی، جس پر انہوں نے کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔'
مزید پڑھیں: