کورونا وائرس کے نتیجے میں لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں تمام تر سرگرمیاں معطل رہیں، وہیں وادی کشمیر میں بھی عام زندگی متاثر رہی لیکن دنیا بھر کے ساتھ ساتھ وادی میں بھی معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں۔
لاک ڈاون سے قبل تین ہزار اینٹوں کی قیمت 20ہزار کے قریب تھی لیکن آج کل یہی اینٹیں 30سے 35ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔
قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کے لئے ضلع اننت ناگ میں انتظامیہ نے فی ہزار اینٹ کی قیمت سات ہزار روپے مقرر کی ہے۔ جس کو بھٹہ مالکان جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔
ڈی سی اننت ناگ نے اے ڈی سی کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی، جنہوں نے ان نرخناموں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مختلف بھٹوں کا دورہ کیا اور بغیر لائسنس چلنے والے 3 بھٹوں کو سیل کر دیا، اس کے علاوہ کئی بھٹوں سے لاکھوں روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔
جنوبی کشمیر برک کلن ایسوسی ایشن کے صدر محمد یوسف نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے اینٹوں کی طے شدہ قیمتوں پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اینٹ صنعت کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن بنانے کے لئے انتظامیہ کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں اینٹوں سمیت دیگر تعمیراتی میٹریل بشمول ریت اور بجاری کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔