برطانیہ کی ملکہ الیزا بیتھ ثانی کے شوہر پرنس فلپ کی آخری رسومات آج ونڈسر کَیسل کے سینٹ جارج چیپل میں ادا کی جائے گی۔ کورونا پابندیوں کی وجہ سے آخری رسومات میں محض 30 افراد ہی شریک ہوں گے۔
بکنگھم پَیلیس نے اس کی تصدیق کی ہے۔ کسی بھی برطانوی حکومت کے سب سے طویل وقت تک خدمات انجام دینے والے ایڈن برگ کے ڈیوک کی نو اپریل کو وِنڈسر کَیسل میں 99 برس کی عمر میں موت ہو گئی، جہاں ان کی لاش نجی گرجا گھر میں رکھی گئی تھی۔
پرنس فلپ کی موت کے بعد برطانیہ میں آٹھ دنوں کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے لیکن عوام سے کہا گیا کہ وہ کووڈ-19 ہدایات پر عمل پیرا رہیں اور وِنڈسر یا کسی دوسری شاہی رہائش گاہ پر یکجا نہ ہوں۔
چَیپل کے اندر سماجی دوری کا خصوصی خیال رکھا جا ئے گا اور ملکہ آخری رسومات کے دوران تنہا بیٹھیں گی۔ آخری رسومات میں شاہی جوڑے کی اولاد، ان کے پوتے، فلپ کے تین جرمن رشتہ دار، ملکہ کے تین چچا زاد بھائی اور فلپ کی گاڑی چلانے والے شریک ہوں گے۔
آخری رسومات سے قبل برطانیہ میں ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی جائے گی، قومی ٹیلی وژن پر اسے براہ راست نشر کیا جائے گا اور چرچ آف انگلینڈ کے لیڈر جسٹن ویلبی دعا کریں گے۔
پرنس فلپ کی لاش سینٹ جارج کے چَیپل کے رائل والڈ میں دفن کی جائے گی۔