ایران کے طاقتور ادارہ 'انقلابی گارڈ' کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے کہا کہ 'امریکہ نے اس ملک پر مکمل معاشی جنگ برپا کر رکھا ہے، کیونکہ فوجی جنگ میں وہ ایران کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔'
جنرل سلامی نے کہا کہ 'دشمن نے ہمارے گھروں کے اندر حملہ کر دیا ہے۔ ہمارے گھروں کے ڈائننگ ٹیبل پر حملہ کیا ہے'۔
سلامی نے ایک تقریر میں قانون سازوں کو بتایا کہ 'فوجی راستے بند ہیں اور جنگ ممکن نہیں ہے، لیکن انہوں نے معاشی دراندازی اور نفسیاتی جنگ کی راہیں کھول دی ہیں۔'
سلامی نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران امریکہ کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'ان کی قوم مزاحمت جاری رکھے گی۔'
اس موقع پر صدر حسن روحانی نے علی رضا رازم حسینی کو ٹریڈ اور انڈسٹری کے وزیر کے طور پر منتخب کیا ہے، کیونکہ ان دنوں ایران کو غیر معمولی معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے سے امریکہ کو علیحدہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی ایران پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں، جس کے سبب ایران شدید طور پر معاشی دباو کا سامنا کر رہا ہے۔
ان پابندیوں کے سبب ایرانی معیشت زوال کا شکار ہے۔ ایران کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اب تک کی کم ترین قیمت پر آگئی ہے۔