ETV Bharat / international

WHO on Omicron: اومیکرون سے بڑاخطرہ پیدا ہوسکتا ہے، عالمی ادارہ صحت کا اظہار تشویش

author img

By

Published : Dec 15, 2021, 9:56 PM IST

ڈبلیو ایچ او World Health Organization نے ایک ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اس ویریئنٹ سے متعلق کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

WHO has expressed concern over omicrons could pose a major threat
عالمی ادارہ صحت نے تشویش کا اظہار کیا

عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی نئی شکل اومیکرون WHO on Omicron سے اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یوکے ہیلتھ ایجنسی نے پیر کو اومیکرون Omicron سے پہلی موت کی تصدیق کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے ایک ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اومیکرون ویرینٹ Omicron in World سے متعلق کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ بہت سے ممالک میں تمام کیسز اور موت کے اعداد و شمار کا مسلسل تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، جس کی وجہ سے کسی خاص موت کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کووڈ-19 کی نئی شکل اومیکرون کتنا خطرناک ہے، اس کا پتہ معاملات میں اضافہ اور اس سے ہوئی اموات کے اعدادوشمار میں تاخیر کے سبب آئندہ کچھ ہفتوں میں ہی معلومات حاصل ہوپائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: First Omicron Death in Britain: برطانیہ میں اومیکرون سے پہلی موت کی تصدیق

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اومیکرون ویریئنٹ Omicron سے متاثرہ مریضوں کی واضح معلومات کے لیے اضافی معلومات درکار ہیں، جس میں تمام ممالک اسپتال میں داخل مریضوں کا ریکارڈ ڈبلیو ایچ او کلینیکل ڈیٹا پلیٹ فارم پر شیئر کر سکتے ہیں۔

یواین آئی

عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی نئی شکل اومیکرون WHO on Omicron سے اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یوکے ہیلتھ ایجنسی نے پیر کو اومیکرون Omicron سے پہلی موت کی تصدیق کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے ایک ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اومیکرون ویرینٹ Omicron in World سے متعلق کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ بہت سے ممالک میں تمام کیسز اور موت کے اعداد و شمار کا مسلسل تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، جس کی وجہ سے کسی خاص موت کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کووڈ-19 کی نئی شکل اومیکرون کتنا خطرناک ہے، اس کا پتہ معاملات میں اضافہ اور اس سے ہوئی اموات کے اعدادوشمار میں تاخیر کے سبب آئندہ کچھ ہفتوں میں ہی معلومات حاصل ہوپائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: First Omicron Death in Britain: برطانیہ میں اومیکرون سے پہلی موت کی تصدیق

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اومیکرون ویریئنٹ Omicron سے متاثرہ مریضوں کی واضح معلومات کے لیے اضافی معلومات درکار ہیں، جس میں تمام ممالک اسپتال میں داخل مریضوں کا ریکارڈ ڈبلیو ایچ او کلینیکل ڈیٹا پلیٹ فارم پر شیئر کر سکتے ہیں۔

یواین آئی

ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.