ای ٹی وی بھارت سے خصوصی گفتگو میں وادی کے معروف جم ٹرینر زاہد شفیع ڈار کا کہنا ہے کہ 'عالمی وبا کی وجہ سے ہمیں کافی مُشکِلات کا سامنا رہا۔ جب بھی فٹنس انڈسٹری پٹری پر آرہی ہوتی تبھی کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے، لیکن ان مشکلات کے باوجود ہم اپنے جیمرز سےآنلائن جڑے رہے اور تربیت دیتے رہے'۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اب حالات بہتر ہونے کے ساتھ ہی لوگ پورے جوش کے ساتھ سامنے آرہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ کام پھر سے بہتر ہوگا'۔ آن لائن ٹریننگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ' ٹرینرز کے بغیر صلاح و مشورہ کے جم کرنا صحیح نہیں ہوتا کیونکہ غلط ورزش سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ہر باڈی بلڈرز ٹرینر نہیں ہو سکتا، آن لائن ٹریننگ کے دوران ان جیمرز کا زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے'۔
غذائیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ 'جم ٹریننگ میں سب سے زیادہ ضروری چیز صحیح غذا ہے۔ اس لیے ہم ہر انسان کے جسم کی بنیاد پر اُن کو غذائیت کی صلاح دیتے ہیں'۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ' آن لائن جم کا سامان فروخت اور استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا ٹرینر سے مشورہ لینا ضروری ہے نہیں تو غلط طریقے سے پریکٹس کرنے سے منفی اثرات ہو سکتے ہیں'۔ جم میں گزشتہ تین برسوں سے پریکٹس کر رہے شہباز علی کا کہنا ہے کہ 'میرا مقصد اپنے جسم کو تندرست رکھنا ہے اور اس کے ذریعہ انسان بری عادتوں سے دور رہتا ہے'۔
مزید پڑھیں: سرینگر کے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ پر گرینیڈ حملہ
آپ کو بتاتا چلوں کہ زاہد گزشتہ 15 برسوں سے لوگوں کو جسمانی ٹریننگ دی رہے ہیں اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ اور دیگر سلیبریٹیز اُن سے تربیت لیے چکے ہیں'۔ اُن کا کہنا ہے کہ "یہاں زیادہ تر لوگ اپنا وزن کم کرنے کے غرض سے آتے ہیں، مرد و خواتین کا خیال رکھتے ہوئے ہم انہیں تین شفٹ میں تربیت دیتے ہیں اور سب کے لیے علحیدہ ٹرینرز ہیں'۔