شمیمہ فردوس نے کہا کہ انتظامیہ نے ان ادارواں کو فنڈس دستیاب نہ رکھنے کی وجہ سے مفلوج بنا دیا ہے جن کا کام خواتین کو مالی مدد فراہم کونے کے ساتھ ساتھ انہیں انصاف و راحت دلانا تھا۔
شمیمہ فردوس نے ای ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سابق بی جے پی پی ڈی پی کی مخلوط حکومت سے لے کر گورنر انتظامیہ تک وہ ادارے بد نظمی کے شکار ہوئے ہیں جہاں سے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے علاوہ یتیم اور بے سہارا لڑکیوں کو شادی بہیا کے لئے مالی امداد کی جاتی تھی۔
'غریب خواتین کو مالی امداد سے محروم رکھنا قابل مذمت' - Srinagar
نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے کشمیر میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے اور حکومتی سطح پر دیے جانے والے مراعات کو بند کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شمیمہ فردوس نے کہا کہ انتظامیہ نے ان ادارواں کو فنڈس دستیاب نہ رکھنے کی وجہ سے مفلوج بنا دیا ہے جن کا کام خواتین کو مالی مدد فراہم کونے کے ساتھ ساتھ انہیں انصاف و راحت دلانا تھا۔
شمیمہ فردوس نے ای ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سابق بی جے پی پی ڈی پی کی مخلوط حکومت سے لے کر گورنر انتظامیہ تک وہ ادارے بد نظمی کے شکار ہوئے ہیں جہاں سے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے علاوہ یتیم اور بے سہارا لڑکیوں کو شادی بہیا کے لئے مالی امداد کی جاتی تھی۔
Body:خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے اور حکومتی سطح پر دیئے جانے والے مراعات کو۔بند کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنسں خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے کہا کہ انتظامیہ نے ان ادارواں کو فنڈس دستیاب نہ رکھنے کی وجہ سے مفلوج بنا دیا ہے جن کا کام خواتین کو مالی مدد فراہم کونے کے ساتھ ساتھ انہیں انصاف و راحت دلانا تھا۔
انہوں نے ای ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سابق بی جے پی پی ڈی پی کی مخلوط دور اقتدار سے لے کر گورنر انتظامیہ تک وہ ادارے بد نظمی کے شکارہوئے ہیں جہاں سے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے علاوہ یتیم اور بے سہارا لڑکیوں کو شادی بہیا کے لئے مالی امداد کی جاتی تھی۔وہیں انہوں نے کہا کہ وہ ادارے بھی انتشار کے شکار ہیں جو خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انصاف فراہم کرنے میں ایک کلیدی رول ادا کرتے تھے۔
دوسری جانب شمیمہ فردوس نے کہا کہ مہلک بیماریوں میں مبتلا غریب خواتین کو علاج و معالجہ کے لیے امداد دی جاتی تھی لیکن اس وقت یہ ساری سہولیات بند کر دیئے گئے ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے ۔
این سی کی خواتین ونگ کی ریاستی صدر نے گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ مالی لحاظ سے کمزور خواتین کی شادی بہیا کے ساتھ ساتھ ان کے علاج معالجہ اور انہیں مختلف سماجی معاملات کےتئیں انصاف دلانے والے مختلف ادارواں کو فعال بنایا جایا جو خواتین کی راحت اور سہولیات کی غرض سے معرض وجود میں لائے گئے ہیں
Conclusion:ای ٹی وی بھارت کے لیے سرینگر سے پرویز الدین کی رپورٹ