بھیونڈی شہر کے ہنومان ٹیکری نامی علاقے میں واقع قحبہ خانوں میں جسم فروشی کرنے والی کئی خواتین نے اس کام سے توبہ کر اپنی ایک نئی زندگی کی شروعات کی ہے۔ شہر کے ہنومان ٹیکری علاقے میں قحبہ خانوں میں تقریباً پانچ سو سے زیادہ سیکس ورکرز موجود ہیں۔
اس علاقے میں خواتین کی صحت کو لیکر شرمجیوی سنگٹھن اور شری سائی سیوا سنستھا کے ذریعہ ڈاکٹر سواتی خان نے چار برس قبل کام کرنا شروع کیا اور ان خواتین کے درمیان انہوں نے اچھے مراسم بنالئے تھے۔ کورونا وائرس وبا کے سبب ہونے والے لاک ڈاون کے دوران سبھی کاروبار مکمل طور سے بند ہو گئے اور جسم فروشی کا اڈہ بھی بند ہو گیا۔ پریشان حال ان سیکس ورکرز کے لیے سواتی خان نے ہاتھ بڑھایا اور انہیں خود نوش اشیاء کے ساتھ دیگر ضروریات کو پورا کرنے لگی مگر جب ان سیکس ورکرز کی جانب سے انہیں کام دلانے کا مطالبہ کیا جانے لگا تو وہ پریشان ہو گئیں۔ مگر انہوں نے ہمت سے کام لیتے ہوئے اور انہوں مقامی تاجر سے رابطہ کیا اس کے بعد 25 سیکس ورکرز کے ایک گروپ کو اگربتی پیکنک کی تربیت دلاتے ہوئے اگربتی پیکنگ کا کام ان سیکس ورکرز کو دلانے میں کامیاب ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاک ڈاون: پاورلوم مزدور فاقہ کشی پر مجبور
چار سیکس ورکرز نے جسم فروشی کی سیاہ زندگی کو خیرباد کہتے ہوئے عام خواتین کی طرح زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر سواتی خان چار سیکس ورکرز کو ان کی نئی زندگی شروع کرنے کے لئے چار کرایہ کا مکان تلاش کر انہیں اس کی چابی سپرد کیا ہے۔
این جی او نے پہلے ان خواتین کو بہتر کاونسلنگ اور روزگار فراہم کیا اس کے بعد مکان دے کر ایک نئی راہ ہموار کیا ہے۔ ان چاروں مکان پر 'چیچیز ہاوس' کا بورڈ لگایا گیا ہے۔ ملیالی زبانی میں چیچیز ہاوس کا مطلب بہن کا گھر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سواتی خان کے مطابق ان سیکس ورکرز کو مین اسٹریم میں لاکر انہیں کافی ذہنی سکون مل رہا ہے۔
جسم فروشی کے دلدل میں 14 برس سے سیاہ زندگی گزارنے والی ایک 30 سالہ سیکس ورکرز نے کہا کہ 'اس زندگی کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہتے ہوئے ایک نئی زندگی کی شروعات کررہی ہوں اور اب اس نئی زندگی کے شروع ہونے کے کتنی بھی مشکلات آئے مگر اب اس سیاہ زندگی کی طرف کبھی بھی واپس نہیں ہونا ہے۔