ریاست اتر پردیش کا بارہ بنکی وہ شہر ہے جس کی رگوں میں شعر و ادب کی روانی ہے۔ شعر و ادب کے ماحول نے یہاں مجاز، شمسی منائی، شہنشاہ غزل خمار بارہ بنکوی اور صاغر اعظمی جیسے عالمی شہرت یافتہ شعرا دیے۔ اب اسی روایت کو پورا کرکے اپنی شاعری کے ذریعے بارہ بنکی کا نام عالمی سطح پر انجم بارہ بنکوی روشن کر رہے ہیں۔
انجم بارہ بنکوی Anjum Bara Bankui شاعر کے ساتھ ادیب بھی ہیں اور وہ اب تک متعدد کتابیں بھی تحریر کر چکے ہیں۔
کلیم کرار عرف انجم بارہ بنکوی کی پیدائش بارہ بنکی ضلع کے میلارائے گنج قصبے میں ہوئی تھی۔ انہیں شاعری کا ماحول گھرسے ہی ملا۔ ان کے مامو سرور بارہ بنکوی بھی عالمی شہرت یافتہ شاعر تھے۔ جو 1952 میں پاکستان چلے گئے۔
بچپن سے انجم بارہ بنکوی اپنے مامو کے بارے میں سنا کرتے تھے۔ ساتھ ہی بارہ بنکی کے ادبی ماحول نے ان کی شاعری کو اور نکھارا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری معیاری ہونے کے ساتھ غزل کے تمام اصولوں پر کھری اترتی ہے۔
انجم بارہ بنکوی کی شاعری کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی ذاتیات پر شاعری نہیں کی۔
انہوں نے معاشرے کو سمجھا اور اپنی شاعری میں سماجی انصاف کے توازن کو بنانے کی کوشش کی۔ان کی یہی کوشش انہیں دیگر شعرا سے الگ کر دیتی ہے۔
انجم بارہ بنکوی کی تعلیم اور شاعری کی ابتدا بارہ بنکی ضلع سے ہی ہوئی۔اردو میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انہیں ذریعہ معاش کے لئے بھوپال جانا پڑا۔ اب وہ بھوپال میں بسے ہیں۔ لیکن بارہ بنکی سے دوری انہیں کھلتی رہتی ہے۔