وشال حیدرآباد کی معروف عثمانیہ یونیورسٹی کے ملحقہ کالج کا طالب علم ہے، جسے 10جون تک 1500روپئے امتحان کی فیس اداکرنی ہے، وشال کے والد حمایت نگر علاقہ میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں جو لاک ڈاون کی وجہ سے گذشتہ دو ماہ سے بند تھی۔
وشال کا کہنا ہے کہ اس دکان کے بند ہونے کی وجہ سے آمدنی نہیں ہوئی ہے اور اس کا خاندان گھرکا کرایہ بھی اداکرنے کے لائق بھی نہیں ہے، وشال نے کہاکہ جب گھر کا کرایہ دینے کا بھی وہ موقف نہیں رکھتا تو پھر امتحان فیس کس طرح ادا کی جاسکتی ہے؟
وشال کے مطابق اس نے کالج کے پرنسپل سے خواہش کی ہے کہ اس کے خاندان کی مالی حالت کے پیش نظر فیس کی ادائیگی کو ملتوی کردے تاہم اس سے پرنسپل نے کہا کہ کالج کا انتظامیہ بے بس ہے کیونکہ یہ امتحان فیس کالج میں نہیں بلکہ یونیورسٹی کو راست طورپر ادا کرنا ہے۔
ایسا وشال کا پہلا معاملہ نہیں ہے بلکہ تلنگانہ میں سرکاری اور پرائیویٹ کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلبہ کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے جو اس طرح کی پریشان کن صورتحال سے گذر رہے ہیں۔
ڈگری کی طالبہ نندی نے کہا کہ کہنہ امراض کی وجہ سے اس کے والد کو اسپتال میں داخل کروانا پڑا اور اس کی ماں گارمنٹ کے اسٹورمیں کام کرتی ہیں، لاک ڈاون کی وجہ سے اس کی ماں ملازمت سے محروم ہوگئی ہے اور اب امتحان فیس بھی اداکرنی ہے۔
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے طلباء نے تلنگانہ اسٹیٹ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن (ٹی ایس سی ایچ ای) سے درخواست کی ہے کہ وہ امتحان فیس کو معاف کرے تاہم کونسل نے تاحال اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
انجینئرنگ اور دیگر فنی کورسز کے برخلاف نان ٹکنیکل ڈگری کورسز کا انتخاب ایسے طلباء کی جانب سے کیاجاتا ہے جن کی آمدنی کم ہوتی ہے، ایسے طلباء کے لئے امتحان فیس کی ادائیگی بھی ان پر زائد بوجھ ہوتا ہے، بالخصوص کورونا جیسی مشکل گھڑی میں۔
نائب صدر گریٹر حیدرآباد این ایس یوآئی ایم اے معید نے یہ بات بتائی، بیشتر طلباء فیس کی ادائیگی کے اہل میں نہیں ہیں کیونکہ ان کے خاندانوں کی آمدنی چھوٹے پیمانہ کی تجارت، نامناسب ملازمتوں پر منحصر ہے، ان میں سے بعض یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بھی ہیں۔
دوسری طرف عثمانیہ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی اپنے ملازمین کے تنخواہوں کی ادائیگی کے موقف میں بھی نہیں ہے اورامتحان فیس کی وصولی سے کچھ آمدنی کی یونیورسٹی توقع کررہی ہے، یونیورسٹی اس سلسلہ میں کچھ بھی نہیں کرسکتی، حکومت کو چاہئے کہ وہ آگے آئے اور پبلک یونیورسٹیوں کی فنڈز کے ذریعہ مدد کرے۔