ETV Bharat / city

جمعیت نے 'دینک جاگرن' کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا

author img

By

Published : Jul 19, 2021, 7:26 PM IST

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ''مدارس اسلامیہ سے متعلق جھوٹی اور گمراہ کن خبر مدارس کی شبیہ اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے برے ارادے کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ اخبار کو فوری طور سے معافی مانگنی چاہیے اور اس کی اشاعت پر روک لگانی چاہیے۔''

The Jamiat sent a defamation notice to 'Dainik Jagran'
جمعیۃ نے 'دینک جاگرن' کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی کی طرف سے ان کے وکیل ایم آر شمشاد نے ہندی اخبار 'دینک جاگرن' کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کی وجہ 7 جولائی 2021 کو اخبار کے صفحہ نمبر 7 پر مدارس اسلامیہ سے متعلق جھوٹی اور گمراہ کن خبر کی اشاعت ہے۔

اس خبر میں انتہائی غلط اور بے بنیاد باتوں کو مدرسوں سے جوڑا گیا ہے اور آزاد مدرسوں کو غیر قانونی عمل کا گہوارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے، جس سے ملک کے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے اور ملک میں لاکھوں بچوں کو مفت بنیادی ابتدائی تعلیم فراہم کرنے والے دینی اداروں کے سلسلے میں عوام میں غلط تاثر قائم ہوا ہے۔

حالانکہ ملک کے آئین کی دفعہ 29-30 میں تمام اقلیتوں کو اپنی پسند کے مطابق تعلیمی ادارہ قائم کرنے اور اسے چلانے، اسی طرح اپنی تہذیب، زبان اور رسم الخط کے تحفظ کا بنیادی حق ہے۔

جہاں تک آرٹی ای ایکٹ 2009 کا معاملہ ہے تو اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ (حکومت بنام پرامتی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ 2013) موجود ہے، جس میں اقلیتی اداروں بشمول مدارس اسلامیہ کو اس قانون کے دائرے سے مستثنی رکھا گیا ہے اور اس سلسلے میں بنیادی دفعہ 30 کا حوالہ دیا گیا ہے۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ ہندی اخبار کی خبر میں یہ ذیلی سرخی بھی لگائی گئی ہے 'نہیں لینا چاہتے مانیتا' جس میں کہا گیا ہے کہ 'زیادہ تر غیر مانیتا پراپت مدرسے، مانیتا کے لیے آویدن نہیں کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ مانیتا ملنے پر انھیں سرکاری محکموں کے ضابطوں پر عمل کرنا پڑتا ہے، چندے کا حساب دینا ہوتا ہے'

انہوں نے کہا کہ یہ الزام انتہائی غلط اور منفی تاثر پیدا کرنے والا ہے جو دینک جاگرن اخبار اور اس کے رپورٹر حسین شاہ نے خود سے وضع کیا ہے، جب کہ حقائق اس کے خلاف ہیں اور اس کے پس پشت اخبار کی بدنیتی ظاہر ہو تی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

بڑے جانور کی قربانی کے معاملے پر ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی خبر کے طویل عنوان کے نیچے دانستہ طور سے 'لو جہاد' کے مفروضہ کی خبر بھی شائع کی گئی ہے جس کا مقصد قاری کو کنفیوز کرنا ہے اور یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ مدرسوں میں اس کی طرح غیر قانونی سرگرمیاں ہو تی ہیں۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا خبر کی اشاعت سے مدرسوں کو ناقابل تلافی نقصان اور اس کی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ مدرسوں سے عمر گوتم کے قضیہ کو جوڑا گیا ہے اور عمر گوتم کو جرم کا محور مان کر مدرسوں کو اس کا مرکز بتایا جارہا ہے، جب کہ عمر گوتم کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اس لیے ہم دینک جاگرن سے غیر مشروط معافی مانگنے اور اس گمراہ کن مضمون کی اشاعت بند کرنے اور اپنی ویب سائٹ سے حذف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، بصورت دیگر جمعیۃ علماء ہند عدالتی چارہ جوئی کے لیے مجبور ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:

Kakori Arrest: جمعیت علما ملزمین کے کیس کی پیروی کرے گی

اس سلسلے میں آج نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے قانونی معاملوں کے نگراں ایڈوکیٹ و مولانا نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ اس خبر سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ملک میں سارے آزاد مدرسے غیر قانونی طور سے چلتے ہیں، اس لیے سرکار ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مدارس ملک کے آئین کی بنیادی دفعہ 30 کے مطابق چلتے ہیں اور ان کا وجود عین آئینی اور دستوری حق کا تحفظ ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے مقصد اصلی میں مدارس اسلامیہ کا تحفظ شامل ہے۔ اس لیے ایسی خبروں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس سبھی مدرسوں کی ساکھ اور شبیہ متاثر ہوتی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی کی طرف سے ان کے وکیل ایم آر شمشاد نے ہندی اخبار 'دینک جاگرن' کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کی وجہ 7 جولائی 2021 کو اخبار کے صفحہ نمبر 7 پر مدارس اسلامیہ سے متعلق جھوٹی اور گمراہ کن خبر کی اشاعت ہے۔

اس خبر میں انتہائی غلط اور بے بنیاد باتوں کو مدرسوں سے جوڑا گیا ہے اور آزاد مدرسوں کو غیر قانونی عمل کا گہوارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے، جس سے ملک کے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے اور ملک میں لاکھوں بچوں کو مفت بنیادی ابتدائی تعلیم فراہم کرنے والے دینی اداروں کے سلسلے میں عوام میں غلط تاثر قائم ہوا ہے۔

حالانکہ ملک کے آئین کی دفعہ 29-30 میں تمام اقلیتوں کو اپنی پسند کے مطابق تعلیمی ادارہ قائم کرنے اور اسے چلانے، اسی طرح اپنی تہذیب، زبان اور رسم الخط کے تحفظ کا بنیادی حق ہے۔

جہاں تک آرٹی ای ایکٹ 2009 کا معاملہ ہے تو اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ (حکومت بنام پرامتی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ 2013) موجود ہے، جس میں اقلیتی اداروں بشمول مدارس اسلامیہ کو اس قانون کے دائرے سے مستثنی رکھا گیا ہے اور اس سلسلے میں بنیادی دفعہ 30 کا حوالہ دیا گیا ہے۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ ہندی اخبار کی خبر میں یہ ذیلی سرخی بھی لگائی گئی ہے 'نہیں لینا چاہتے مانیتا' جس میں کہا گیا ہے کہ 'زیادہ تر غیر مانیتا پراپت مدرسے، مانیتا کے لیے آویدن نہیں کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ مانیتا ملنے پر انھیں سرکاری محکموں کے ضابطوں پر عمل کرنا پڑتا ہے، چندے کا حساب دینا ہوتا ہے'

انہوں نے کہا کہ یہ الزام انتہائی غلط اور منفی تاثر پیدا کرنے والا ہے جو دینک جاگرن اخبار اور اس کے رپورٹر حسین شاہ نے خود سے وضع کیا ہے، جب کہ حقائق اس کے خلاف ہیں اور اس کے پس پشت اخبار کی بدنیتی ظاہر ہو تی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

بڑے جانور کی قربانی کے معاملے پر ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی خبر کے طویل عنوان کے نیچے دانستہ طور سے 'لو جہاد' کے مفروضہ کی خبر بھی شائع کی گئی ہے جس کا مقصد قاری کو کنفیوز کرنا ہے اور یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ مدرسوں میں اس کی طرح غیر قانونی سرگرمیاں ہو تی ہیں۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا خبر کی اشاعت سے مدرسوں کو ناقابل تلافی نقصان اور اس کی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ مدرسوں سے عمر گوتم کے قضیہ کو جوڑا گیا ہے اور عمر گوتم کو جرم کا محور مان کر مدرسوں کو اس کا مرکز بتایا جارہا ہے، جب کہ عمر گوتم کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اس لیے ہم دینک جاگرن سے غیر مشروط معافی مانگنے اور اس گمراہ کن مضمون کی اشاعت بند کرنے اور اپنی ویب سائٹ سے حذف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، بصورت دیگر جمعیۃ علماء ہند عدالتی چارہ جوئی کے لیے مجبور ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:

Kakori Arrest: جمعیت علما ملزمین کے کیس کی پیروی کرے گی

اس سلسلے میں آج نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے قانونی معاملوں کے نگراں ایڈوکیٹ و مولانا نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ اس خبر سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ملک میں سارے آزاد مدرسے غیر قانونی طور سے چلتے ہیں، اس لیے سرکار ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مدارس ملک کے آئین کی بنیادی دفعہ 30 کے مطابق چلتے ہیں اور ان کا وجود عین آئینی اور دستوری حق کا تحفظ ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے مقصد اصلی میں مدارس اسلامیہ کا تحفظ شامل ہے۔ اس لیے ایسی خبروں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس سبھی مدرسوں کی ساکھ اور شبیہ متاثر ہوتی ہے۔

ETV Bharat Logo

Copyright © 2024 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.