گذشتہ دنوں تحریک فروغ اسلام کے سربراہ مولانا قمر غنی عثمانی کو دہلی سے گجرات اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا، جن پر گجرات کے احمدآباد میں ہوئے ایک قتل کے تعلق سے قاتل کا برین واش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ Mehmood Pracha on Maulana Qamar Usmani
ذرائع کے مطابق گجرات کے احمدآباد میں رہنے والے کشن نام کے ایک شخص نے سوشل میڈیا پر رسولﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی جس کے بعد لوگوں میں ناراضگی تھی۔ اسی دوران کشن کا قتل ہو جاتا ہے۔
قتل کے بعد پولیس تین لوگوں کو گرفتار کرکے تفتیش کرتی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمین میں سے ایک شخص نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے مولانا قمر غنی عثمانی سے ملاقات کی تھی۔ اسی الزام کی بنیاد پر گجرات اے ٹی ایس نے دہلی سے مولانا کو گرفتار کیا ہے۔ Maulana Qamar Ghani Usmani case
اس پورے معاملے پر ای ٹی وی بھارت کے نمائندے نے مولانا قمر غنی عثمانی کے وکیل محمود پراچہ سے بات کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ابھی درخواست تیار کی جا رہی ہے چونکہ پولیس کی تفتیش جاری ہے اور معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے، اس لیے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: Bharwad Murder Case: بھرواڑ قتل کیس ملزمین کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین نافذ
انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ کئی برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس بے گناہ مسلمانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ان کو بے بنیاد مقدمات میں پھنسا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی پوری کوشش کریں گے کہ کسی بے گناہ کو قید کی سزا نہ بھگتنی پڑے۔
انہوں نے بتایا کہ جب مولانا قمر غنی عثمانی کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان کے خلاف گجرات پولیس نے کیس درج کیا تب بھی انہوں نے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ آخری وقت تک میڈیا سے بات کرتے رہے اور اسی کو بنیاد بنا کر ہم گجرات ہائی کورٹ میں اپنی درخواست داخل کریں گے۔
گجرات اے ٹی ایس نے مولانا قمر غنی عثمانی کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور گجرات کنٹرول آف ٹیررازم کی ایک سیکشن کو بھی شامل کیا ہے۔