پوری نے سرکاری ایئر لائن کمپنی ایئر انڈیا میں کچھ ملازمین کو نکالنے اور کچھ کو بغیر تنخواہ رخصت پر بھیجنے کے فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ ایئر لائن کا وجود بچانے کے لیے اخراجات میں کمی ضروری تھی۔ پوری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر ایئر لائن بند ہوجائے گی تو کسی کی نوکری نہیں بچے گی۔ اس لیے اخراجات کم کرنا ضروری ہوگیا تھا۔
حکومت پر اس وقت کووڈ -19 وبا کے سبب پہلے ہی کافی مالی دباو ہے اور ایسے میں ہر برس اکویٹی کی شکل میں 500-600 کروڑ روپے کی مدد نہیں دے سکتی۔
قابل ذکر ہے کہ ایئر انڈیا نے ریٹائر کے بعد دوبارہ رکھے گئے ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی قرار پر رکھے جن ملازمین کے کنٹریکٹ کی مدت ختم ہوگئی ہے، ان کاکنٹریکٹ آگے نہیں بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے کچھ ملازمین کو چھ ماہ سے پانچ برس تک کے بغیر تنخواہ رخصت پر بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے لیے ملازم کی صحت،کام کی صلاحیت اور غیر موجودگی کے سابقہ ریکارڈ کو بنیاد بنایا جائے گا۔ ساتھ ہی پائلٹوں اور کیبن کرو کی تنخواہ کٹوتی پر بھی بات چل رہی ہے۔
ایئرانڈیا کے صدرراجیو بنسل نے بتایا کہ کمپنی لاگت کو کم کر کے قرض کا بار کم کرنا چاہتی ہے۔ ملازمین کی تنخواہ وغیرہ میں ہونے والےا خراجات کم کرنے کے علاوہ طیاروں کا کرایہ کم کرنے کے لئے ان کمپنیوں سے بات کررہی ہے جس سے جہازلیز پرلیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آپریشن لاگت کم کرنے کے لیے ان ہوٹلوں کے ساتھ بھی کرایہ کم کرنے کے لیے بات چل رہی ہے جہاں آرام کے دوران عملے کے ممبران کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ دیگرخدمات فراہم کرنے والوں کے ساتھ بھی بات چیت چل رہی ہے۔
مسٹر پوری نے کہا کہ اس وقت سبھی ایئر لائن کمپنیوں کے پاس ضرورت سے زیادہ جہاز اور ملازم ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پیسوں کی کمی کے سبب ایئر انڈیا بند ہوجاتی ہے تو سبھی ملازم بے روزگار ہوجائیں گے۔ انہوں نے کچھ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے اس الزامات کو خارج کردیا کہ ملازمین کو نوکری سے نکال کرایئر انڈیا کے لئے خریدارراغب کرنے کی کوشش ہے۔