ایک وقت تھا جب اسداللہ اپنے ہنر پر فخر کیا کرتے تھے نقش و نگاری اور تزئین کاری کرانے والے افراد کی لمبی قطاریں لگا کرتی تھیں، لیکن حالات بدلے اور اتنا بدل گئے کہ اس ہنرمند ہاتھ کو اب کام ہی نہیں ملتا۔
یہ کہنہ مشق دستکار اسداللہ ہیں جو مذہب اور عقیدے سے اوپر اٹھ کر مندروں اور غیر مسلموں کے مذہبی مقامات کے گنبدوں کو خوشنما اور دیدہ زیب کاریگری کے ذریعہ جاذب نظر بناتے ہیں۔ جن کے ہنر کا گواہ گولڈن ٹمپل کا گنبد ہے جو آج بھی اپنی تابانی بکھیر رہا ہے جسے مزین کرنے میں ان کا بھی بڑا کردار ہے۔
تاریخی گولڈن ٹمپل، جین مندر اور سائیں بابا کے مندروں کے گنبدوں پر اپنے ہنر کا جلوہ دکھانے والے اسداللہ آج دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔ گنبدوں کو خوبصورت بنانے کی کاریگری میں ماہر اسد اللہ کے ہاتھ اب رکے ہوئے ہیں کیوں اب گنبدوں کی تزئین کاری کا وہ سنہرا دور ختم ہوچکا ہے۔
اسداللہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی جوانی گولڈن ٹمپل کے سنہرے گنبدوں کو سنوارنے میں گزار دی جب وہ اس کام سے فارغ ہوئے تو انہیں سائیں بابا کے مُکٹ اور سنہاسن بنانے کی بڑی ذمہ داری دی گئی، لیکن گزشتہ چار برسوں سے یہ ہونہار دستکار اپنے گھر میں دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی بڑی مشکل سے کر پا رہا ہے۔
اسد اللہ اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دور تھا جب میں اپنے ہنر پر فخر کیا کرتا تھا اور گاہک مجھ سے کام کرانے کے لیے میرے منتظر ہوا کرتے تھے لیکن آج حالات ایسے ہیں کہ کام ہی نہیں ہے۔
اسداللہ پہلے سونے اور چاندی کے وَرقَ پر نقش و نگار بنایا کرتے تھے اور سونے و چاندی کے ڈھیر ان کے قدموں میں پڑے ہوتے تھے لیکن اب سونا چاندی تو کیا تانبے کے ورق بھی ضرورت کے حساب سے خریدنے پڑتے ہیں، اس کی سب بڑی وجہ ایک طرف گرانی تو دوسری جانب شاید سنہرے دور کا ختم ہوجانا ہے۔