بھارت صدیوں سے گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ رہا ہے جہاں ہندو مسلم کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی و بھائی چارہ قائم رہا ہے۔ درگاہوں میں ہندو تاجروں کی دکانیں اور ہندو جاترا میں مسلمانوں کی دکانیں لگا کرتی تھیں۔ لیکن ان دنوں کرناٹک کے متعدد اضلاع میں دیکھا جارہا ہے کہ بجرنگ دل کی جانب سے مندروں کے سالانہ جاترا کے دوران بازاروں میں مسلم تاجروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ Call For Boycott Of Muslim Traders In Temple Festivals
اس معاملے پر کانگریس نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم مخالف اور نفرتی ایجنڈے سے ریاست کو ترقی کی راہ پر نہیں لے جا سکتی، وہیں اس معاملے کے خلاف بی جے پی کے رہنما وشوناتھ اور انیل بینکے نے جاترا میں مسلم مخالف رویہ کے خلاف اواز اٹھائی اور حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جاترا کے دوران بازاروں سے مسلم تاجرون کو بے دخل کرنے میں مندر انتظامیہ شامل نہیں ہے، تاہم بجرنگ دل کے اراکین جاترا کے دوران بازاروں میں مسلم تاجروں کے خلاف مندر کے آس پاس بینرز اور ہوڈنگز لگادی۔
مزید پڑھیں:۔ Muslim Traders Barred From Temple Fairs: کرناٹک میں مسلم تاجروں کے بائیکاٹ پر ریاستی اقلیتی کمیشن کا بیان
جاترا میں مسلم تاجروں کی پابندی کے متعلق مندر کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے جاترا میں لگائے گئے مسلم مخالف بینرز اور ہوڈنگز سے انتظامیہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس پورے معاملے میں معروف سماجی کارکن واٹال ناگراج سمیت کئی اہم شخصیات نے فکرمندی کا اظہا کیا اور سیاسی مفاد کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے والے فرقہ پرست طاقتوں کی سخت مذمت کی۔ اس معاملے کو کانگریس نے اسمبلی میں اٹھایا لیکن بی جے نے کانگریس ہی پر الزام عائد کیا کہ مندروں کے احاطے میں غیر مسلمانوں کو جائدادیں لیز پر نہ دئے جانے کے اصول کانگریس ہی نے بنائے تھے اور بی جے پی نے خود کو اس معاملے سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں محکمہ پولیس نے بتایا ہے کہ وہ اس معاملے کو ایکسپرٹ سے بات چیت کرکے حل کریں گے، تاہم ابھی تک کوئی حل سامنے نہیں آیا۔