شاہ محمود قریشی دو طرفہ مسائل اور علاقائی حالات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جرمنی کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ اس دوران اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا 'عالمی برادری کو افغانستان سے روابط رکھنا چاہیے، انسانی امداد جاری رکھنی چاہیے اور افغانستان میں معاشی تباہی نہیں ہونے دینی چاہیے۔
انہوں نے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو چھوڑنا کوئی آپشن نہیں تھا کیونکہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
قریشی نے کہا کہ افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کا تعاون ضروری ہے اور جرمن وزیر خارجہ صورتحال کا جائزہ لینے اور افغانستان میں قیام کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آپ کو ایک بہت اچھا نظریہ دے گا کہ چیلنجز کیا ہیں ، خدشات کیا ہیں ، مواقع کیا ہیں اور آنے والے دنوں میں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔
قریشی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں اضطرابی کیفیت پیدا کرنے والوں سے چوکس رہیں۔ عالمی برادری کو امن کے لیے کھڑے ہونے والوں اور اس میں خلل ڈالنے والوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔
Joe Biden: افغانستان سے انخلا بہترین اور دانشمندانہ فیصلہ
امریکہ، افغانستان میں انسانی امداد جاری رکھے گا: امریکی وزیرخارجہ
انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، انہوں نے افغانستان میں ایک ایسا ماحول بنانے زور دیا تاکہ دوبارہ ہجرت کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے حالیہ بیانات حوصلہ افزا ہیں اور انہیں انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کا احترام کرنا ہوگا۔
جرمن کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے کہا کہ طالبان نے ایک جامع حکومت بنانے کا عہد کیا ہے اور اس کا وعدہ کیا ہے، لیکن اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں گے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کابل ایئر پورٹ کو دوبارہ کھولنے اور جرمنی جانے والے اہل افراد کے انخلاء کے بعد دوسرے ممالک کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں چارٹر پروازوں کا اہتمام کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اس سے قبل قریشی اور ماس نے مذاکرات میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور علاقائی امن و سلامتی بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔