لکھنؤ: اترپردیش میں دینی مدارس کو جدید تعلیم کے نام پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن مدارس بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم طلبہ و طالبات کو دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے بھی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ لکھنؤ کے مدرسہ شیخ العالم صابریہ چشتیہ کے طلباء کو مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے ذہن سازی کی جاتی ہے۔ وہیں طلباء بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ مدرسہ کے استاد مولانا نسیم کا کہنا ہے کہ طلبا کو جدید تعلیم حاصل کرنے کے لیے رہنمائی کی جاتی ہے اور ان کو آنے والے چیلنجز سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب تک مدرسہ کے تقریبا 12 طلبا نے یونیورسٹی کا رخ کیا ہے۔ 15 طلبا نے انٹر اور ہائی سکول میں داخلہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود یونیورسٹی سے بی اے کر رہا ہوں، جس کی وجہ ہے کہ طلباء کے اندر حوصلہ اور جذبہ پیدا ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں:۔ کولکاتا: مسلم طالبات تک جدید تعلیم پہنچانے میں مدینۃ العلوم انسٹی ٹیوٹ کا اہم کردار
انہوں نے کہا کہ کئی طلباء ایسے ہیں جن کا خواب ہے یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کرنا، جب کی کچھ ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتے ہیں۔ طلبا کا ماننا ہے کہ اساتذہ کی محنت اور صحیح سمت میں رہنمائی انتہائی کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔ جہاں دینی تعلیم پوری محنت اور لگن کے ساتھ دی جاتی ہے، وہیں جدید تعلیم کے لئے بھی طلباء کی رہنمائی کی جاتی ہے اور ماہرین کے ذریعے کلاسز بھی دی جاتی ہیں۔ مدرسہ کے طالب علم نقی علی نے بتاتے ہیں کہ یہاں کے طلبا و اساتذہ انتہائی لگن کے ساتھ تعلیم و تعلم کا عمل جاری رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ طلبا نہ صرف دینی تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے بلکہ جدید تعلیم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اساتذہ کے ذریعے طلباء کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور اساتذہ ان شخصیات کے بارے میں بھی متعارف کراتے ہیں جو مدرسے سے تعلیم حاصل کر آج اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ اساتذہ کا طریقہ کار طلبا کو پسند آ رہا ہے اور طلبہ بھی اب بڑی تعداد میں خود کو دونوں طرح کی تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔