زیر زمین پانی کے مرکزی بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) کے وزیر گجندر سنگھ شیخاوت نے کہا کہ 'ملک میں زیر زمین پانی کے تقریبا 22 فیصد وسائل خشک ہو چکے ہیں'۔
انہوں نے کہا کہ 'حکومت نے ملک میں پانی کے بہتر استعمال کرنے اور اسے ضائع ہونے سے بچانے کے لیے نقشہ سازی کا کام شروع کیا ہے'۔
شیخاوت نے کہا کہ 'ان کی حکومت آئندہ دو برسوں تک ملک میں تمام زمینی وسائل کی نقشہ سازی کو مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہے جبکہ دیگر اضلاع میں پانی کی دستیابی کے مراکز کی نقشہ سازی پر کام کرنا باقی ہے'۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیخاوت نے کہا کہ 'زیر زمین پانی کا بحران کسی خاص ملک کے لئے نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کو در پیش ہے۔'
انہوں نے کہا کہ 'ہمارا 65 فیصد انحصار زیر زمین پانی پر ہے، یہ معاملہ اس لئے بھی اہم ہے کہ اس سے مستقبل کی نسلیں بھی متاثر ہوں گی'۔
بھارت میں زیرزمین پانی کے ذخائر کی کل تعداد میں تقریبا 22 فیصد خشک ہیں یا سوکھنے کے دہانے پر ہیں۔
مزید پڑھیں : ہریانہ: پرندوں کے لیے اکیس منزلہ عمارت زیر تعمیر
دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھارت پانی کی لپیٹ میں ہے۔
حکومت کے زیر انتظام تھنک ٹینک این آئی ٹی آئی ایوگ کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق ' اگلے سال مجموعی طور پر 21 بڑے شہر زیر زمین پانی کے مسائل سے دور ہوجائیں گے'۔