ETV Bharat / bharat

سینئر صحافی ڈاکٹر عبدالقادر شمس کا انتقال - صحافت کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں سرگرم تھے

سینیئر صحافی ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی کا آج یہاں مجیدیہ اسپتال میں کورونا انفیکشن کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ ایک ہفتہ سے زائد اسپتال میں داخل تھے، انہیں پلازمہ بھی چڑھایا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

senior journalist dr. abdul qadir shams passed away today
سینئر صحافی ڈاکٹر عبدالقادر شمس
author img

By

Published : Aug 25, 2020, 4:46 PM IST

ان کی عمر تقریباً پچاس سال کے قریب تھی۔ پسماندگاہ میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، وہ گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے بیمار تھے، کئی جگہ دکھانے کے بعد مجیدیہ میں داخل کرائے گئے تھے۔

وہ کورونا سے متاثر تھے، جس کا پتہ بعد میں چلا۔ انہیں ایک ہفتہ قبل پلازمہ بھی چڑھایا گیا تھا اوراس کے بعد ان کی طبیعت میں کچھ بہتری آرہی تھی، لیکن آج تقریباً ایک بجے وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

وہ صحافت کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں سرگرم تھے اور بہت فعال تھے۔

سیمانچل کی فلاح بہبود اور وہاں کے مسائل اٹھانے کیلئے قائم سیمانچل میڈیا منچ کے نائب صدر بھی تھے۔اس کے علاوہ کئی اداروں سے وابستہ بھی تھے۔

عبدالقادر شمس دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔

راشٹریہ سہارا میں خدمات انجام دینے سے پہلے وہ کئی ملی تنظیموں میں کام کرنے کے ساتھ ادارتی فرائض بھی انجام دے چکے تھے۔

وہ سیمانچل کے دگرگوں حالات سے کافی پریشان رہتے تھے اور تعلیم وصحت کیلئے ادارے بھی قائم کئے تھے۔شمس انتہائی ملنسار، با اخلاق اور ملنے جلنے والے شخص تھے۔ان کے انتقال سے اردو صحافت ایک فعال صحافی سے محروم ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں:

لون وولف اٹیک کیا ہوتا ہے؟

ان کے انتقال پر صحافی برادری کے علاوہ بہار اردو اکیدمی کے سابق سکریٹری اور سابق بیورو کریٹ مشتاق احمدنوری، جوائنٹ کمشنر انکم ٹیکس اسلم حسن، مشہور ادیب حقانی القاسمی، تنظیم علمائے حق کے قومی صدر مولانا اعجازعرفی قاسمی، سیمانچل میڈیا منچ کی پوری ٹیم اور اس کے صدر اورصحافی عابد انور، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ڈاکٹر خالد مبشر، شعبہ اسلامیات کے اسسنٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمدتجاروی، ہیومن چین کے صدر انجینئر محمد اسلم علیگ اور این سی پی یو ایل کے ڈاکٹر توقیر راہی وغیرہ نے زبردست رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی ہے۔

ان کی عمر تقریباً پچاس سال کے قریب تھی۔ پسماندگاہ میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، وہ گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے بیمار تھے، کئی جگہ دکھانے کے بعد مجیدیہ میں داخل کرائے گئے تھے۔

وہ کورونا سے متاثر تھے، جس کا پتہ بعد میں چلا۔ انہیں ایک ہفتہ قبل پلازمہ بھی چڑھایا گیا تھا اوراس کے بعد ان کی طبیعت میں کچھ بہتری آرہی تھی، لیکن آج تقریباً ایک بجے وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

وہ صحافت کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں سرگرم تھے اور بہت فعال تھے۔

سیمانچل کی فلاح بہبود اور وہاں کے مسائل اٹھانے کیلئے قائم سیمانچل میڈیا منچ کے نائب صدر بھی تھے۔اس کے علاوہ کئی اداروں سے وابستہ بھی تھے۔

عبدالقادر شمس دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔

راشٹریہ سہارا میں خدمات انجام دینے سے پہلے وہ کئی ملی تنظیموں میں کام کرنے کے ساتھ ادارتی فرائض بھی انجام دے چکے تھے۔

وہ سیمانچل کے دگرگوں حالات سے کافی پریشان رہتے تھے اور تعلیم وصحت کیلئے ادارے بھی قائم کئے تھے۔شمس انتہائی ملنسار، با اخلاق اور ملنے جلنے والے شخص تھے۔ان کے انتقال سے اردو صحافت ایک فعال صحافی سے محروم ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں:

لون وولف اٹیک کیا ہوتا ہے؟

ان کے انتقال پر صحافی برادری کے علاوہ بہار اردو اکیدمی کے سابق سکریٹری اور سابق بیورو کریٹ مشتاق احمدنوری، جوائنٹ کمشنر انکم ٹیکس اسلم حسن، مشہور ادیب حقانی القاسمی، تنظیم علمائے حق کے قومی صدر مولانا اعجازعرفی قاسمی، سیمانچل میڈیا منچ کی پوری ٹیم اور اس کے صدر اورصحافی عابد انور، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ڈاکٹر خالد مبشر، شعبہ اسلامیات کے اسسنٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمدتجاروی، ہیومن چین کے صدر انجینئر محمد اسلم علیگ اور این سی پی یو ایل کے ڈاکٹر توقیر راہی وغیرہ نے زبردست رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی ہے۔

ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.