گزشتہ ر وز (20 جنوری) کو کسانوں اور حکومت کے مابین دسویں دور کی میٹنگ کے بعد مرکزی حکومت نے نئے زرعی قوانین کو ڈیڑھ برس تک ملتوی کرنے کی بات کہی تاہم حکومت کے اس فیصلے پر ابھی تک کسان تنظیموں کا کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔
گزشتہ روز کسانوں سے میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسانوں کا احتجاج ختم کروانا جمہوریت کی جیت ہوگی اس حکومت کسانوں کے احتجاج کو ختم کروانے کے لیے حکومت زرعی اصلاحی قوانین عارضی طور پر ملتوی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ کسان، حکومتی نمائندوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں اور جو بھی نتیجہ نکلے گا اس پر کام کیا جائے گا۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا تھا کہ 'جس دن کسان اپنا احتجاج ختم کر کے واپس جائیں گے اور جس دن ان کی تحریک ختم ہوگی اس وقت کو جمہوریت کی جیت قرار دینا درست ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کسان، حکومت کی تجویز پر غور و خوض کریں گے اور کل(22 جنوری) کو ایک مرتبہ پھر سے حکومت اور کسان تنظیموں کے رہنماؤں سے گفتگو کی جائے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس مرتبہ کچھ حل نکلے گا۔