وارانسی: گیان واپی مسجد کے وضو خانے موجود ڈھانچے (فورہ/شیولنگ) کے تعلق سے دیے گئے بیانات کی بنیاد پر سپریمو اکھلیش یادو اور ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے مطالبے پر آج سماعت ہوگی۔ عدالت نے حال ہی میں ان دونوں پر سماعت کے لیے دو مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔
اس معاملے میں ہندو فریق کے وکیل ایڈوکیٹ ہری شنکر پانڈے نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ ہری شنکر پانڈے نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نویں کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں ان پر وضو خانے میں پائے جانے والے 'ڈھانچے' کو بار بار فورہ کہہ کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔
اکھلیش یادو نے پیپل کے درخت کے نیچے پتھر رکھ کر جھنڈا لگانے اور اسے شیولنگ کہنے کی بات بھی کی تھی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اسدالدین اویسی پر الزام لگایا کہ انہوں نے اشتعال انگیز بیانات دے کر ہندوؤں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچائی تھی۔ ہری شنکر پانڈے کی اس درخواست پر سماعت جاری ہے۔
نچلی عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے دوبارہ مانیٹرنگ پٹیشن کے طور پر دائر کیا گیا ہے۔ جس پر سماعت جاری ہے۔ مدعا علیہ اکھلیش یادو کی طرف سے وکیل انوج یادو نے اپنا رخ پیش کیا۔ اسدالدین اویسی کی جانب سے ایڈوکیٹ احتشام اور دیگر نے عدالت میں جواب داخل کیا۔ عدالت نے دیگر ملزمان کو جواب دینے کا آخری موقع دیا۔ اس کے بعد جج تمام فریقین کو سنیں گے۔
گیان واپی مسجد میں اشتعال انگیز نعرے بازی، مسجد کمیٹی کا ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ