حیدرآباد: لوک سبھا انتخابات 2024 کے نتائج سامنے آنے کے بعد بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور ٹی ڈی پی سربراہ چندرابابو نائیڈو سے متعلق کافی چرچا ہو رہی ہے۔ منگل کو میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیا اتحاد کے قائدین مرکز میں حکومت بنانے کے لئے این ڈی اے کے دونوں قائدین ( چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار) سے رجوع کرسکتے ہیں۔
اس دوران چندرابابو نائیڈو کے ساتھ اکھلیش یادو کی ایک پرانی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور ایک گمراہ کن دعویٰ کیا جا رہا کہ اکھلیش یادو کو انڈیا اتحاد نے نائیڈو کو اپوزیشن کیمپ میں لانے کی ذمہ داری دی ہے۔
موقع دیکھ کر کانگریس بھی پیچھے نہیں رہی اور پی ایم مودی پر ایکس پر مزاحیہ پوسٹ کر دی۔ چندرابابو نائیڈو اور اکھلیش یادو کی پرانی تصویر بھی شیئر کی گئی۔
ملک میں سیاسی ہلچل کے درمیان سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کو 10 لاکھ سے زیادہ ویوز اور ہزاروں لائکس اور کمنٹس ملے۔
درحقیقت اس بار لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو اکثریت سے 32 سیٹیں کم ملی ہیں، اس لیے پی ایم مودی کی قیادت میں نئی حکومت کی تشکیل میں این ڈی اے کی دو پارٹیوں جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کا کردار اہم ہو گیا ہے۔ آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کی پارٹی ٹی ڈی پی نے 16 اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو نے 12 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ وہیں بی جے پی کو 240 سیٹیں ملی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن اتحاد بھارت کو کل 234 سیٹیں ملی ہیں، جو حکومت سازی کے لیے درکار 272 کے جادوئی اعداد و شمار سے کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: